نُورِ ہدایت — Page 380
مجھے نہیں جانتا تھا اور نہ مجھے یہ خواہش تھی کہ کوئی مجھے شناخت کرے۔اس نے گوشہ تنہائی سے مجھے جبر نکالا۔میں نے چاہا کہ میں پوشیدہ رہوں اور پوشیدہ مروں۔مگر اس نے کہا کہ میں تجھے تمام دنیا میں عزت کے ساتھ شہرت دوں گا۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 153) پس خدا تعالیٰ کا یہ طریق ہے کہ جب کسی کو اپنے نور سے سجاتا ہے تو تمام دنیا میں اس کا اظہار بھی کروا دیتا ہے۔ایک انسان کی بنائی ہوئی عام روشنی بھی جہاں روشنی ہو وہاں اپنا نشان ظاہر کر رہی ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ کے نور کو کس طرح چھپایا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ یہ نورجب اپنے بندے کو دیتا ہے اور جب یہ اعلان فرما دیتا ہے کہ اس کا نور یعنی اللہ تعالیٰ کا نور تمام زمین و آسمان پر حاوی ہے تو اس سے یہ بھی مراد ہے کہ جو روحانی نور اللہ تعالیٰ کے خاص فیض سے اس کے خاص بندوں پر آسمان سے اترا ہے اب اس کے فیض عام کا بھی سلسلہ جاری ہو گیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے ان خاص بندوں سے جڑ جاؤ تو یہ ٹور پھر تمہارے دلوں کو بھی روشن کر دے گا۔چاہے چھوٹے چھوٹے طاق بنیں۔چاہے چھوٹے چھوٹے گلوب ہوں۔چاہے اس کی روشنی کو پھیلانے کی ایک عام مومن کی استعدادوں کے مطابق کوئی حد مقرر ہو لیکن جو نجڑیں گے وہ پھر اس نور سے حصہ پاتے ہوئے آگے بھی نُور کو پھیلانے والے بنتے جائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کا نُور جب کسی انسان تک پہنچتا ہے، کسی مومن تک پہنچتا ہے اگر اس نے حقیقی نور حاصل کیا ہے تو وہ اس تک پہنچ کر اسے فیضیاب کرتے ہوئے دوسروں کو فیض پہنچانے کا باعث ضرور بنتا ہے۔پس اس کے حاصل کرنے اور اس سے زیادہ سے زیادہ فیضیاب ہونے کے لئے خدا تعالیٰ کے محبوب ترین کا اسوہ اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔عبادات میں، اخلاق میں ، عادات میں جب اس شوق سے اس اسوہ کو اختیار کرنے کی کوشش اور سوچ ہوگی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوگی تو اس کا اعلان خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کریم میں یوں کروایا ہے کہ قُل اِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (آل عمران (32) کہ کہہ دے کہ اگر تم اللہ سے 380