نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 379 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 379

پس اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں اپنا ٹور آپ پر اتار کر آپ کو اس زمانے میں اس نور کو پھیلانے کے لئے کھڑا کر دیا جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالی نے اتارا تھا اور آپ کا یہ سب کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ محبت کرنے کی وجہ سے تھا۔پس اس محبت کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے بھی آپ سے محبت کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ کے اس نور کو جو زمین و آسمان پر حاوی ہے، جو روحانی انقلاب لانے کا ذریعہ بنتا ہے، اپنے آقا کی غلامی میں آپ بھی اس ٹور کا پر تو بنے۔وہ وحی جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک سینے پر اتری تھی اس کے علوم و معارف آپ پر بھی کھولے گئے تا کہ دنیا کو بتاسکیں کہ اس تعلیم کی اصل تفسیر یہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق نے کی ہے۔آپ کو دنیاوی شہرت کی کوئی خواہش نہیں تھی لیکن جب اللہ تعالیٰ کا نور کسی پر پڑنے کا فیصلہ کرتا ہے تو پھر خود خدا تعالیٰ اس کو دنیا میں شہرت دیتا ہے تا کہ وہ شخص خدا تعالیٰ کے نور کو پھیلانے کا باعث بنے۔آپ کو خدا تعالیٰ نے الہاما فرمایا کہ: ” تو اس سے نکلا اور اس نے تمام دنیا سے تجھ کو چنا۔۔تو جہان کا نور ہے۔تو خدا کا وقار ہے۔پس وہ تجھے ترک نہیں کرے گا۔۔۔اے لوگو! تمہارے پاس خدا کا نُور آیا۔پس تم منکر مت ہو۔“ 66 ( تذکرہ صفحہ 258) پس یہ نور آپ پر اللہ تعالیٰ نے خود اتارا اور آپ کی پاک فطرت کی وجہ سے آپ کا خدا تعالیٰ سے جو ایک تعلق قائم ہوا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی وجہ سے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کی وجہ سے وہ ٹور جوصحابہ کے ظاہری قالب پر پانی کی طرح بہا۔1400 سال بعد بھی اس نے نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس نور سے بھر دیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ عالئیسلام کو وہ ٹور آگے پھیلانے کا مقام بھی عطا فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ”میرے لئے یہ کافی تھا کہ وہ میرے پر خوش ہو۔( یعنی اللہ تعالیٰ میرے پر خوش ہے ) مجھے اس بات کی ہر گز تمنا نہ تھی ( کہ میں مسیح موعود کہلاؤں یا مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں بہتر ٹھہراؤں )۔میں پوشیدگی کے حجرہ میں تھا اور کوئی 379