نُورِ ہدایت — Page 378
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مع حسنین علی بنی کلمن و فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دیکھا۔۔۔۔۔اور علاوہ اس کے انوار روحانی تمثیلی طور پر برنگ ستون سبز و سرخ ایسے دلکش و دلستاں طور پر نظر آتے تھے جن کا بیان کرنا بالکل طاقت تحریر سے باہر ہے۔وہ نورانی ستون جو سید ھے آسمان کی طرف گئے ہوئے تھے جن میں سے بعض چمکدار سفید اور بعض سبز اور بعض سرخ تھے۔ان کو دل سے ایسا تعلق تھا کہ ان کو دیکھ کر دل کو نہایت سرور پہنچتا تھا اور دنیا میں کوئی بھی ایسی لذت نہیں ہوگی جیسا کہ ان کو دیکھ کر دل اور روح کو لذت آتی تھی۔میرے خیال میں ہے کہ وہ ستون خدا اور بندے کی محبت کی ترکیب سے ایک تمثیلی صورت میں ظاہر کئے گئے تھے۔یعنی وہ ایک ٹور تھا جو دل سے نکلا اور دوسرا وہ ٹور تھا جو اوپر سے نازل ہوا اور دونوں کے ملنے سے ایک ستون کی صورت پیدا ہوگئی۔‘“ 66 ( کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحه 199-198) اور یہ سب مقام اور اللہ تعالیٰ کا آپ پر نور کا اتارنا یا اللہ تعالی کا نُوراتر نا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت کی وجہ سے تھا۔چنانچہ ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ الہام جس کے معنی یہ تھے کہ ملاء اعلیٰ کے لوگ خصومت میں ہیں ( یعنی جو آسمانی فرشتے ہیں وہ آپس میں بحث کر رہے ہیں، جھگڑ رہے ہیں )۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں یعنی ارادۃ الہی احیاء دین کے لئے جوش میں ہے لیکن ہنوز ملاء اعلیٰ پرشخص مخی کی تعین ظاہر نہیں ہوئی۔اس لئے وہ اختلاف میں ہے۔اسی اثناء میں ( خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک مُحیی کو تلاش کرتے پھرتے ہیں اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا اور اشارے سے اس نے کہا هذَا رَجُلٌ يُحِبُّ رَسُول اللہ۔یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے اور اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرط اعظم اس عہدہ کی محبت رسول ہے سو وہ اس شخص میں متحقق ہے۔یعنی اس میں ثابت ہے۔( تذکرہ صفحہ 34 - براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ در حاشیہ نمبر 3 صفحہ 503-502 - روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 598) 378