نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 359 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 359

صفات سے عدم توجہگی کی طرف لے جاتی ہے۔اس کو کسی آرام کی ضرورت نہیں۔اس کی استعدادیں انسانی استعدادوں کی طرح نہیں ہیں جنہیں ایک وقت میں آرام اور نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔بلکہ وہ تو تمام قدرتوں کا مالک خدا ہے۔اس لئے نہ ہی اسے نیند کی ضرورت ہے نہ ہی تھکاوٹ کی وجہ سے اسے اونگھ آتی ہے۔اس لئے سوال ہی نہیں کہ وہ اپنے بندوں کی زندگی اور بقا سے کبھی غافل ہو۔ہاں قانون قدرت کے تحت اور اس کی دوسری صفات کے تحت وہ اپنے بندوں کو امتحانوں اور آزمائشوں میں ڈالتا ہے۔لیکن یہ بھی اس کا اعلان ہے کہ حقیقی زندگی اس کے بندوں کی ہی ہے۔اس کے راستے میں مرنے والے بھی ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور جب اس نے یہ اعلان فرمایا کہ میرے نبی کی جماعت ہی زندہ اور غالب رہنے والی ہے تو اس بات کو بھی پورا کر کے دکھایا کہ وہ زندہ رہتی ہے اور غالب رہتی ہے۔پھر فرما ياله ما في السّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ اسی کا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جوزمین میں ہے۔اس بات پر بھی کسی کو شبہ اور شک نہیں ہونا چاہئے کہ اگر چہ اللہ تعالیٰ نے کہا تو یہی ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔لیکن یہ کس طرح ہوگا، کیونکہ اگر دنیاوی لحاظ سے دیکھا جائے اور وسائل کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ غلبہ مشکل نظر آتا ہے یا بڑی دُور کی بات نظر آتی ہے۔لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ کتب الله لا غلبن انا وَرُسُلي (المجادله (22) تو باوجود نا مساعد حالات کے اسے سچ کر دکھایا۔اسی طرح جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ فرمایا ہے تو اب بھی سچ کر دکھائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے دیکھا بھی رہا ہے۔گو انسان سوچتا ہے کہ کس طرح اور کیونکر بظاہر اسباب اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے غلبہ ہوگا۔یا ہوگا بھی تو بہت دُور کی بات ہے۔اور مکمل کامیابی بہت دُور کی چیز نظر آتی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ خدا تعالیٰ کے تصرف اور قبضے میں ہے۔یہ زمین اور آسمان بغیر مالک کے نہیں ہیں دنیا میں رہنے والی ساری مخلوق اُسی کے قبضہ قدرت میں ہے اور وہ لامحدود اور وسیع تر طاقتوں کا مالک ہے اور وہ ہمیشہ دنیا پر نظر رکھے ہوئے ہے۔زندگی اور موت ، فنا اور بقا، 359