نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 325 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 325

قرآن شریف میں یہ فرماتا ہے کہ خدا نے آدم کو جوڑا پیدا کیا اور پھر اس جوڑ اسے بہت سی مخلوق مرد اور عورت پیدا کئے اور ایسا ہی فرماتا ہے کہ خدا نے زمین پر اپنا خلیفہ پیدا کیا جو آدم تھا جس میں خدائی روح تھی پھر وہ نور آدم سے دوسرے نبیوں میں منتقل ہوتا گیا اور ابراہیم اور اسحاق اور اسماعیل اور یعقوب اور موسیٰ اور داؤد اور عیسیٰ وغیرہ سب اس نور کے وارث ہوئے یہاں تک کہ آخری وارث ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔پس ان تمام پاک نبیوں نے جیسا کہ آدم سے وراثت میں جسمانی نقوش پائے ایسا ہی بحیثیت خلیفہ ہو نے آدم کے اُس سے خدائی روح بھی پایا پھر ان کے ذریعہ سے وقتا فوقتا اور لوگ بھی وارث ہوتے گئے۔( عصمت انبیاء علیهم السلام، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 678تا680) آخرت کا شفیع وہ ثابت ہو سکتا ہے جس نے دنیا میں شفاعت کا کوئی نمونہ دکھلایا ہو۔سواس معیار کو آگے رکھ کر جب ہم موسیٰ پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ بھی شفیع ثابت ہوتا ہے کیونکہ بار با اس نے اُترتا ہوا عذاب دُعا سے ٹال دیا۔اس کی توریت گواہ ہے اسی طرح جب ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر ڈالتے ہیں تو آپ کا شفیع ہونا اجلی بدیہیات معلوم ہوتا ہے کیونکہ آپ کی شفاعت کا ہی اثر تھا کہ آپ نے غریب صحابہ کو تخت پر بٹھا دیا اور آپ کی شفاعت کا ہی اثر تھا کہ وہ لوگ باوجود اس کے کہ بت پرستی اور شرک میں نشو و نما پایا تھا ایسے موحد ہو گئے جن کی نظیر کسی زمانہ میں نہیں ملتی اور پھر آپ کی شفاعت کا ہی اثر ہے کہ اب تک آپ کی پیروی کرنے والے خدا کا سچا الہام پاتے ہیں خدا ان سے ہم کلام ہوتا ہے مگر مسیح ابن مریم میں یہ تمام ثبوت کیوں کر اور کہاں سے مل سکتے ہیں۔ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت پر اس سے بڑھ کر اور زبردست شہادت کیا ہوگی کہ ہم اس جناب کے واسطے سے جو کچھ خدا سے پاتے ہیں ہمارے دشمن وہ نہیں پاسکتے اگر ہمارے مخالف اس امتحان کی طرف آویں تو چند روز میں فیصلہ ہوسکتا ہے۔( عصمت انبیاء علیہم السلام، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 700،699) تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگرمحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 13 ) 325