نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 319 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 319

اب شفاعت کی فلاسفی یوں سمجھنی چاہئے کہ شفع لغت میں جفت کو کہتے ہیں پس شفاعت کے لفظ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ضروری امر جو شفیع کی صفات میں سے ہوتا ہے یہ ہے کہ اس کو دوطرفہ اتحاد حاصل ہو یعنی ایک طرف اس کے نفس کو خدا تعالیٰ سے تعلق شدید ہو ایسا کہ گویا وہ کمال اتحاد کے سبب حضرت احدیت کے لئے بطور جفت اور پیوند کے ہو اور دوسری طرف اس کو مخلوق سے بھی شدید تعلق ہو گویا وہ ان کے اعضا کی ایک جز ہو۔پس شفاعت کا اثر مترتب ہونے کے لئے در حقیقت یہی دو جز ہیں جن پر ترتیب اثر موقوف ہے۔یہی راز ہے جو حکمتِ الہیہ نے آدم کو ایسے طور سے بنایا کہ فطرت کی ابتدا سے ہی اس کی سرشت میں دو قسم کے تعلق قائم کر دئیے یعنی ایک تعلق تو خدا سے قائم کیا جیسا قرآن شریف میں فرمایا: فَإِذَا سَوَيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ (الحجر (30) یعنی جب میں آدم کو ٹھیک ٹھیک بنالوں اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو اے فرشتو! اسی وقت تم سجدہ میں گر جاؤ۔اس مذکورہ بالا آیت سے صاف ثابت ہے کہ خدا نے آدم میں اس کی پیدائش کے ساتھ ہی اپنی روح پھونک کر اس کی فطرت کو اپنے ساتھ ایک تعلق قائم کر دیا۔سو یہ اس لئے کیا گیا کہ تا انسان کو فطرتاً خدا سے تعلق پیدا ہو جائے۔ایسا ہی دوسری طرف یہ بھی ضروری تھا کہ ان لوگوں سے بھی فطرتی تعلق ہو جو بنی نوع کہلائیں گے کیونکہ جبکہ ان کا وجود، آدم کی بڑی میں سے ہڈی اور گوشت میں سے گوشت ہوگا تو وہ ضرور اس روح میں سے بھی حصہ لیں گے جو آدم میں پھونکی گئی پس اس لئے آدم طبعی طور پر ان کا شفیع ٹھہرے گا۔کیونکہ باعث نفخ روح جو راستبازی آدم کی فطرت کو دی گئی ہے ضرور ہے کہ اس کی راست بازی کا کچھ حصہ اس شخص کو بھی ملے جو اس میں سے نکلا ہے جیسا کہ ظاہر ہے کہ ہر ایک جانور کا بچہ اس کی صفات اور افعال میں سے حصہ لیتا ہے اور دراصل شفاعت کی حقیقت بھی یہی ہے کہ فطرتی وارث اپنے مورث سے حصہ لے کیونکہ ابھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ شفاعت کا لفظ شفع کے لفظ سے نکلا ہے جوز وج کو کہتے ہیں۔پس جو شخص فطرتی طور پر ایک دوسرے شخص کا روج ٹھہر جائے گا ضرور 319