نُورِ ہدایت — Page 22
(5) { نماز جمعہ} نماز جمعہ میں سورۃ الاعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیۃ تلاوت فرماتے تھے۔( روایت مکرم مبشر احمد کاہلوں صاحب مکرم مرزا محمد الدین ناز صاحب ) روایات بحوالہ خط مکرم حافظ مظفر احمد صاحب۔ایڈیشنل ناظر اصلاح و ارشاد مقامی - محرره 4۔2۔14) جہاں تک خاکسار کو یاد ہے حضور رحمہ اللہ صبح کی نماز میں سورۃ البقرۃ کی سترہ ابتدائی آیات اور کبھی سورۃ الدھر کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔اسی طرح مغرب کی نماز میں پہلی رکعت میں سورۃ قُلْ هُوَ الله احد اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور دوسری رکعت میں قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔( روایت بحوالہ خط مکرم منیر احمد بسمل صاحب - محرر 9۔1۔14) جہاں تک خاکسار کی یادداشت کا تعلق ہے۔اس سلسلے میں عرض ہے کہ جمعہ اور عیدین پر بھی حضور سورۃ فاتحہ کے بعد پہلی رکعت میں سورۃ الاعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیة کی تلاوت کرتے تھے۔مغرب میں عموماً حضرت مصلح موعود کی طرح سورۃ الفیل اور سورۃ الناس پڑھتے تھے۔خاکسار کو یاد ہے اسلام آباد میں بعض اوقات مغرب کی پہلی رکعت میں سورۃ الاخلاص اور سورۃ الفلق اور دوسری رکعت میں سورۃ الناس کی تلاوت کرتے تھے۔ابتداء میں ہی آپ نے سورۃ البقرۃ کی پہلی ستره آیات یاد کرنے کی تحریک فرمائی تھی اور فجر کی نماز میں بعض اوقات دونوں رکعتوں میں سورۃ البقرۃ کی سترہ آیات پڑھتے تھے ( دو حصوں میں )۔بعض اوقات فجر میں سورۃ البقرۃ کا پہلار کوع اور دوسری رکعت میں سورۃ البقرۃ کی آخری آیت بھی آیت نمبر 287۔عشاء کی نماز میں سورۃ الضحی اور سورۃ الم نشرح بعض اوقات پڑھتے تھے۔جہاں تک خاکسار کو یاد پڑتا ہے کہ حضور بدل بدل کر آیات یا رکوع یا سورتیں تلاوت کرتے تھے۔کئی دفعہ آیت الکرسی والا رکوع سورة الحشر والا رکوع نمبر 3 بھی پڑھتے تھے۔( روایت بحوالہ خط مکرم انجینئر محمود مجیب اصغر صاحب - محرره 23۔1۔14) 22