نُورِ ہدایت — Page 281
اور جو شخص ایسا نہیں ہے اور وہ جماعت میں داخل نہیں ہوتا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا جب تک کہ وہ بیعت کر کے جماعت میں داخل نہ ہو جاوے۔اس قطع تعلق کا نقصان ان کی اپنی جانوں پر ہے اور کسی کو اس کا نقصان نہ ہوگا۔ظاہری دشمن کا مقابلہ آسان ہوتا ہے کھیچی ہوئی تلوار کا مقابلہ انسان آسانی سے کر سکتا ہے مگر زہر کی پڑیا کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔تلوار سے تو بھاگ سکتا ہے اس کا مقابلہ کر سکتا ہے مگر زہر کی پڑیا کا اس کو کچھ پتا نہیں لگ سکتا۔اسی طرح منافق انسان ہے وہ ایک زہر کی پڑیا کی طرح جس کو انسان نہیں جانتا کہ میرے کھانے میں ملی ہوتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم مصلح ہیں اور ہم صلح جو اور صلح گن ہیں اور ہم نے دونوں فریق سے صلح رکھی ہوئی ہے۔فسادی تو تم ہو کہ خواہ مخواہ ایک جماعت کو الگ کر کے لوگوں سے لڑائی کرتے ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ سخت مفسد ہیں۔یہ آپس میں لڑائی اور فساد ڈلواتے ہیں اور پھر دونوں فریق سے صلح رکھنے کے لئے ان کو طرح طرح کے حیلے کرنے پڑتے ہیں۔مخالفوں کے پاس گئے تو مسلمانوں کی باتیں ان کو بتلاتے رہے اور جب مسلمانوں کے پاس آئے تو مخالفوں کی باتیں ان کو بتانی پڑتی ہیں۔اور اگر وہ ایسا نہ کریں اور ہر ایک فریق کے سامنے اس کی خیر خواہی کا اقرار نہ کریں تو صلح کس طرح رکھ سکیں اس لئے ان کو ایک فریق کی بات ضرور دوسرے فریق کے سامنے ظاہر کرنی پڑتی ہے۔جو دونوں گروہوں سے تعلق رکھنا چاہے ضرور ہے کہ وہ آپس میں فساد بھی ڈلوا دے اور آخر کار پھر ان کو اس بات کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے۔ان کو بیعت کے لئے کہا جاوے تو کہتے ہیں یہ احمق ہیں ہم جب مانتے ہیں تو بیعت کرنے کی کیا ضرورت ہے صرف مانناہی کافی ہے۔سُفَهَاء - سفہ“۔عربی میں بکھیرنے کو کہتے ہیں۔جو چیز بکھر جائے وہ کمزور ہو جاتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ سفیہ ہیں۔انہوں نے اپنے مال، اپنے گھر بار اور رشتہ داروں کو چھوڑ دیا۔ہم نے دیکھو اپنا مال بچایا ہوا ہے۔یہ سُفَهَاء ہیں، دیکھو انہوں نے اپنے مالوں کی حفاظت نہ کی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہی سُفَهَاء ہیں اور یہی کمزور ہیں۔مومن بڑھ جاویں گے اور کامیاب ہوں گے۔281