نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 261 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 261

م اس آیت میں بیماری کا بڑھانا اللہ تعالیٰ کی طرف اس لئے منسوب کیا گیا ہے کہ یہ اُسی کے احکام اور قوانین کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہے اور لوگوں کے اعمال پر نیک و بد نتائج بھی وہی مرتب فرماتا ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو کسی کی بیماری کے بڑھانے کے لئے نازل نہیں فرمایا بلکہ لوگوں کی بیماری کے دور کرنے کے لئے بھیجا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَ تُكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَا لِمَا فِي الصُّدُورِ (يونس (58) یعنی اے لوگو تمہارے پاس ایک ایسی کتاب آئی ہے جو دل پر اثر کرنے والی نصائح پر مشتمل ہے اور سینہ کی سب بیماریوں کے لئے شفا ہے۔یہ مرض جس کا اس آیت میں ذکر ہے قوت فیصلہ کا نہ ہونا، بزدلی اور نفاق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ دوسری جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے فَاعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ إِلَى يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ يما اخْلَفُوا اللهَ مَا وَعَدُوهُ وَ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ (توبه (77) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی وعدہ خلافی اور جھوٹ کا یہ انجام دکھایا کہ اُن کے دلوں میں نفاق پیدا ہو گیا۔(2) اللہ تعالیٰ کے مرض بڑھا دینے سے ایک یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ جوں جوں مسلمانوں کو ترقی دیتا اور اُن کی طاقت بڑھاتا گیا منافقوں کو اپنے دلی عقیدے کے خلاف ان کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کی وجہ سے اور زیادہ نفاق سے کام لینا پڑا۔دوسرے شریعت اسلامی آہستہ آہستہ نازل ہوئی پس جوں جوں احکام اور مسائل بڑھتے گئے منافقوں کا نفاق بھی بڑھتا جاتا تھا اور ان کی گھبراہٹ اور بزدلی میں اضافہ ہوتا جاتا تھا۔پہلی آیات میں کفار کی نسبت فرمایا تھا وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔اس آیت میں منافقوں کی نسبت فرمایا ہے کہ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ یعنی اُن کے لئے درد ناک عذاب ہے۔اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ کافر کو خواہ کس قدر عذاب ملتا ہو وہ مقابلہ کر کے اپنے دل کا بخار نکال لیتا ہے اور اس طرح بدلہ لینے سے جو انسان کو تسلی ہوتی ہے وہ اسے حاصل ہو جاتی ہے۔مگر منافق بد بخت چونکہ اپنے اندرونہ کو چھپاتا ہے اندر ہی اندر کڑھ کڑھ کر 261