نُورِ ہدایت — Page 217
کتاب کتاب۔کتب کا مصدر ہے اور اسی لحاظ سے ہر اس چیز کا نام کتاب رکھا گیا ہے جس میں مختلف مسائل کو فصل ، باب کے ساتھ لکھ دیا جائے۔تو رات کو بھی انہی معنوں میں کتاب کہتے ہیں اور ہر لکھی ہوئی تصنیف کو بھی کتاب کہتے ہیں۔اور کتاب کے معنی فرض کے بھی ہیں اور حکم کے بھی اور قضاء آسمانی کے بھی۔اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے کلام کو بھی کتاب کہتے ہیں اور خط کو بھی کتاب کہتے ہیں ( اقرب) پس اس لفظ کے اپنے اپنے محل پر مختلف معنی ہوں گے کبھی فروض و احکام کو مدنظر رکھتے ہوئے شریعت والی وحی کو کتاب کہیں گے اور کبھی صرف الہام کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر قطعی اور یقینی وحی کو کتاب کہیں گے خواہ کتابی صورت میں جمع کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو۔ريب الظُّئَةُ وَالتهمة تخمین سے بلا دلیل کوئی بات کہنا یا محض وہم سے کسی پر الزام لگانا اور اس کی سچائی میں شبہ کرنا۔الشك- شک- الْحَاجَةُ - کمی۔ضرورت۔اور ریبُ الْمَنُونِ کے معنے ہیں زمانہ کے مصائب آفات (اقرب) ریب کا لفظ قرآن کریم میں اور کئی جگہ استعمال ہوا ہے مثلاً اسی سورۃ میں فرماتا ہے وَان كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مَا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوْ بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ (بقرہ 24) اس جگہ مراد صداقت میں شبہ کے ہیں۔اسی طرح سورۃ حج میں ہے یا اَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ (الحج 6) اس جگہ بھی بعث بعد الموت کی صداقت میں شک وشبہ کرنے کے معنے ہیں۔پھر سورۃ طور میں ہے اَمَ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ (الطور (31) یعنی کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن یہ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے جس کے متعلق ہم انتظار کر رہے ہیں کہ زمانہ کے مصائب آخر اسے ہلاک کر دینگے۔اس جگہ ریب مصائب دہر اور ہلاکت کے معنوں میں مستعمل ہوا ہے۔قرآن کریم میں ریب کا لفظ اچھے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔مثلاً فرماتا ہے۔مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُرِيبٍ (26) نیکی سے بہت روکنے والا۔حد سے بڑھنے والا۔شک و 217