نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 176 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 176

ہیں۔لیکن بہر حال تقویٰ کے لئے تکلف ہے۔اور متقی حالتِ جنگ میں ہے اور صالح اُس جنگ سے باہر ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ 1897 ، صفحہ 39 تا 41) تقویٰ سے سب شے ہے۔قرآن نے ابتدا اسی سے کی ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سے بھی مُراد تقویٰ ہے کہ انسان اگر چہ عمل کرتا ہے مگر خوف سے جرات نہیں کرتا کہ اسے اپنی طرف منسوب کرے اور اُسے خدا کی استعانت سے خیال کرتا ہے اور پھر اُسی سے آئندہ کے لئے استعانت طلب کرتا ہے۔پھر دوسری سورت بھی هُدًى لِلْمُتَّقِينَ سے شروع ہوتی ہے۔نماز روزہ زکوۃ وغیرہ سب اسی وقت قبول ہوتا ہے جب انسان متقی ہو۔اُس وقت خدا تمام داعی گناہ کے اٹھا دیتا ہے۔بیوی کی ضرورت ہو تو بیوی دیتا ہے۔دوا کی ضرورت ہو تو دوا دیتا ہے۔جس شے کی حاجت ہو وہ دیتا ہے اور ایسے مقام سے روزی دیتا ہے کہ اُسے خبر نہیں ہوتی۔البدر جلد 1 نمبر 7 مؤرخہ 12 دسمبر 1902 صفحہ 51) تقویٰ اختیار کرو۔تقویٰ ہر چیز کی جڑ ہے۔تقویٰ کے معنی ہیں ہر ایک بار یک در باریک رگ گناہ سے بچنا۔تقویٰ اس کو کہتے ہیں کہ جس امر میں بدی کا شبہ بھی ہو اُس سے بھی کنارہ کرے۔الحکم جلد 5 نمبر 29 مؤرخہ 10 اگست 1901 صفحہ 3) اللہ تعالیٰ کے خوف سے اور اس کو راضی کرنے کے لئے جو شخص ہر ایک بدی سے بچتا ہے اس کو متقی کہتے ہیں۔۔۔۔اللہ تعالیٰ تو متقی کے لئے وعدہ کرتا ہے کہ مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل له مخرجًا (الطلاق 3) یعنی جو اللہ تعالیٰ کے لئے تقویٰ اختیار کرتا ہے تو ہر مشکل سے اللہ تعالیٰ اس کو رہائی دے دیتا ہے۔لوگوں نے تقویٰ کے چھوڑنے کے لئے طرح طرح کے بہانے بنا رکھے ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ جھوٹ بولے بغیر ہمارے کاروبار نہیں چل سکتے اور دوسرے لوگوں پر الزام لگاتے ہیں کہ اگر سچ کہا جائے تو وہ لوگ ہم پر اعتبار نہیں کرتے۔پھر بعض لوگ ایسے 176