نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 155 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 155

پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم نے آنا تو میرے پاس ہے۔طَوْعًا یا گرھا تم نے میرے پاس آہی جانا ہے۔تم تخلیق کی جو بھی شکلیں ہو مادہ ہو یا نباتات ہو یا حیوان ہو یا انسان ہو بالآخر تم نے میرے پاس پہنچنا ہے اور ایسی حالت میں پہنچنا ہے کہ تمہارا اپنا کچھ بھی نہیں رہے گا۔اُس وقت جو کچھ میں تمہیں عطا کروں گا اس کی بنا یہ ہوگی کہ اگر تم رحمانیت کے رستہ سے مجھ تک آؤ گے اور رحیمیت کے رستہ سے مجھ تک آؤ گے تو مجھے انعام دینے والا پاؤ گے۔جو کچھ میں دوں گا پھر وہ میری طرف سے ہوگا۔تمہاری ذاتی مالکیت تو پھر بھی کچھ نہیں ہو گی۔لیکن ان رستوں کو نظر انداز کرو گے تو تمہارا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔میرے حضور حاضر ہونے سے پہلے پہلے رحمانیت اور رحیمیت کے رستے تمہیں تین طریق پر طے کرنے ہوں گے۔نظریاتی لحاظ سے بھی اختیار کرنے پڑیں گے قلبی لحاظ سے بھی اختیار کرنے پڑیں گے اور عملی لحاظ سے بھی اختیار کرنے پڑیں گے۔پس یہی سچی حمد ہے جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے۔( خطبه جمعه فرمودہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ ، فرمودہ 29 /اکتوبر 1982 ء۔خطباتِ طاہر جلد اوّل صفحہ 231 تا240) 155