نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 131 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 131

نسبت آتا ہے کہ وہ کہیں گے الحمد لله الذي هد تا لهذا (اعراف 44) سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو ہمیں جنت کی طرف چلا تالا یا اور جس نے ہمیں یہاں تک پہنچادیا۔اسی طرح ہدایت کے معنی سیدھے راستہ کے ساتھ موانست پیدا کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں ہے۔وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللهِ يَهْدِ قَلْبَهُ التغابن 12) جو اللہ پر کامل ایمان لاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ہدایت سے موانست پیدا کر دیتا ہے اور اچھی باتوں سے اسے رغبت ہو جاتی ہے۔اس آیت میں راہ دکھانے کے معنی نہیں ہو سکتے کیونکہ جو ایمان لاتا ہے اسے راہ تو پہلے ہی مل چکا۔ہدایت کے معنی کامیابی کے بھی قرآن کریم میں آتے ہیں۔سورہ نور میں منافقوں کا ذکر فرماتا ہے کہ وہ کہتے تو یہ ہیں کہ انہیں جنگ کا حکم دیا جائے تو وہ ضرور اس کے لئے نکل کھڑے ہوں گے لیکن عمل ان کا کمزور ہے۔فرماتا ہے قسمیں نہ کھاؤ عملاً اطاعت کرو۔کیونکہ اللہ تمہارے اعمال سے واقف ہے۔پھر فرماتا ہے اے رسول! ان سے کہہ دے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔پھر اگر اس حکم کے باوجود تم پھر گئے تو رسول پر اس کی ذمہ داری ہے، تم پر تمہاری۔اور یاد رکھو کہ ان تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا (نور 55) اگر تم رسول کی بات اس بارہ میں مان لو گے تو نقصان نہ ہوگا بلکہ تم کامیاب ہو جاؤ گے اور فتح پاؤ گے۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے الَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى (سوره محمد (18) جولوگ اس ہدایت کو جو انہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے اپنے نفس میں جذب کر لیتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اور ہدایت عطا کرتا ہے۔قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت کسی ایک چیز کا نام نہیں بلکہ اس کے بے انتہا مدارج ہیں۔ہدایت کے ایک درجہ سے اوپر دوسرا درجہ ہے۔اور جولوگ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے جاذب ہو جاتے ہیں انہیں ایک درجہ کے بعد دوسرے درجہ سے روشناس کرایا جاتا ہے۔اس آیت میں ایسی اعلیٰ اور مکمل دُعا سکھائی گئی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔یہ دعا کسی خاص امر کے لئے نہیں ہے بلکہ ہر چھوٹی بڑی ضرورت کے متعلق ہے اور دینی اور دنیوی ہر کام کے متعلق اس دعا سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔131