نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 130 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 130

بدلتے رہتے ہیں اور خیالات بھی بدلتے رہتے ہیں۔دنیا کبھی ایک حال پر قائم نہیں رہتی۔اگر بچپن کے اثرات ایسے ہی زبر دست ہوتے کہ ان سے انسان آزاد نہ ہوسکتا تو چاہئے تھا کہ آدم سے لے کر اس وقت تک دنیا ایک ہی راہ پر گامزن رہتی۔لیکن اس میں بار با تغیر ہوا ہے اور ہورہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے تغیرات ممکن ہیں جو انسان کے خیالات کی روکو اس سمت سے بدل دیں جن پر اس کے بچپن کے تاثرات اسے چلا رہے تھے۔قرآن کریم نے اس کے نہایت زبردست دلائل دیتے ہیں۔مگر اس جگہ ان کی تفصیل کا موقعہ نہیں۔جبر کے عقیدہ کے بالکل مخالف ایک اور خیال بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان اپنے خیالات میں بالکل آزاد ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے کاموں میں کوئی دخل نہیں دیتا۔اسلام اس خیال کو بھی رڈ کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم ان اثرات کو جو گرد و پیش سے انسان پر پڑ رہے ہیں بالکل نظر انداز نہیں کر سکتے۔پس ضروری ہے کہ ایک بالا ہستی جو تمام اثرات سے بالا ہے انسان کی نگران رہے اور ایسے بداثرات جب خطر ناک صورت اختیار کر جائیں تو انسان کی مدد کر کے ان سے اسے بچائے۔اور اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دعا سکھا کر اس طرف توجہ دلائی ہے اور بتایا ہے کہ تمہارا خدا ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھا بلکہ تمہاری مجبوریوں کو دیکھ رہا ہے۔پس تم اس سے مانگو تو وہ تم کو دے گا۔کھٹکھٹاؤ تو وہ تمہارے لئے کھولے گا۔قرآن کریم میں بھی ھدایة کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ایک معنی اس کے کام کی طاقتیں پیدا کر کے کام پر لگا دینے کے ہیں۔مثلاً قرآن کریم میں آتا ہے اغطى كُلّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى (طه 51) یعنی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ نے اس کے مناسب حال کچھ طاقتیں پیدا کیں پھر اسے اس کے مفوضہ کام پر لگادیا۔دوسرے معنی ہدایت کے قرآن کریم سے ہدایت کی طرف بلانے کے معلوم ہوتے ہیں۔مثلاً فرما يا وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَبْدُونَ بِأَمْرِنَا (السجدہ (25) اور ہم نے ان میں سے امام بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق لوگوں کو تورات کی طرف بلاتے تھے۔تیسرے معنی ہدایت کے قرآن کریم سے چلاتے لئے آنے کے ہیں۔جیسے کہ جنتیوں کی 130