نُورِ ہدایت — Page 1143
میں بٹنے کے زمانے میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجانا اور یہ لوگ جو ہیں بجائے اس کے کہ اس دعا کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ تلاش کریں اس سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اگر دنیائے اسلام میں امن قائم کرنا ہے، اگر اندھیروں سے روشنی کی طرف جانا ہے تو مسیح موعود اور مہدی معہود کا ہاتھ پکڑ نا ضروری ہے اور پکڑنا ہوگا۔اس کے علاوہ اب شرور سے بچنے کا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔بیشک وَمِن شَرِ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ مسلمان پڑھتے تو ہیں لیکن روح نہیں۔صرف منہ سے الفاظ ادا کرتے ہیں۔اندھیروں سے نکلنے کے بجائے اندھیروں میں گرتے چلے جارہے ہیں۔ایک تو قتل و غارت گری کر رہے ہیں۔دوسرے ہر برائی میں مبتلا ہیں۔اخلاقی لحاظ سے دیوالیہ ہو چکے ہیں۔اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔دنیاوی لالچوں نے دین کی جگہ لے لی ہے۔آنے والے مسیح موعود کے خلاف جو کہہ سکتے ہیں کہتے ہیں اور جو تدبیریں اور مکر استعمال کر سکتے ہیں کرتے ہیں۔لیکن ان کو سمجھ نہیں آتی کہ ساری اسلامی دنیا میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔کہیں بھی امن نہیں ہے۔یہ نتیجہ دیکھ بھی رہے ہیں لیکن پھر بھی اس بات سے ہٹنا نہیں چاہتے۔نام نہاد علماء دین کے نام پر فساد پیدا کر رہے ہیں اور ہر ایک ان کے پیچھے چل رہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں یہ دعا سکھائی تو ومن شر النففتِ فِي الْعُقَدِ کہ کر پہلے ہی تنبیہ کردی تھی کہ ان سے بچنا۔یہ لوگ تمہیں بدیوں اور برائیوں میں مبتلا کریں گے۔بجائے فساد سے دُور لے جانے کے فساد میں ڈبوئیں گے۔اسلام کے خلاف جو قوتیں کام کر رہی ہیں وہ ان علماء کے عمل کی وجہ سے طاقت پکڑ رہی ہیں۔علماء جو ہیں، یہ نام نہاد علماء ان کو امت کے وسیع تر مفادات کا خیال نہیں۔لیکن خیال ہے تو صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کے خلاف کس طرح منصوبہ بندی کرنی ہے، احمدیوں پر ظلم کس طرح کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : 1143