نُورِ ہدایت — Page 1107
یہ سب روایات ان سورتوں کے فضائل کو ظاہر کرتی ہیں اور ہمیں اس طرف راہنمائی کرتی ہیں کہ ہمیں ہر وقت اللہ تعالیٰ پر نگاہ رکھنی چاہئے اور اس کی پناہ میں رہنے کی دعا کرتے رہنا چاہئے۔وتر کی آخری رکعت چونکہ دن کی نمازوں کے خاتمہ پر ہوتی ہے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں یہ دونوں سورتیں ملا کر پڑھتے تھے۔اور آپ کا یہ فرمانا کہ جو شخص صبح و شام ان سورتوں کو پڑھے گا وہ آفات سے محفوظ ہو جائے گا۔اس کے معنے یہ ہیں کہ انسان کو اپنی ابتدا بھی قرآنی تعلیم پر رکھنی چاہئے اور اپنی انتہا بھی قرآنی تعلیم پر رکھنی چاہئے۔م سورة اخلاص میں توحید کامل کا سبق سکھایا گیا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ سارے قرآن مجید کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔پھر اس کے بعد سورۃ الفلق اور سورۃ الناس میں ہر مسلمان کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے زمانہ میں خدا تعالیٰ کی توحید کے جھنڈے کو بلند رکھے۔اور کسی جابر ظالم اور دشمن اسلام سے ڈرے نہیں۔اور یہ یقین رکھے کہ صرف ایک خدا تعالیٰ کی ہستی ہی ہے جس کے اشارہ پر ساری کائنات حرکت کرتی ہے اور وہ خدا ہر خیر کے دینے اور ہر شر سے محفوظ رکھنے پر قادر ہے۔پس اس کی توحید کا اعلان کرنے کے لئے مخلوق میں سے کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ جب کوئی شخص تو حید کی اشاعت کے لئے کھڑا ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کی خود حفاظت کرے گا۔اور بڑے سے بڑا بادشاہ بھی اس کا مقابلہ نہ کر سکے گا۔سورة الفلق کا تعلق سورۃ نضر سے بھی ہے۔سورۃ نصر میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تھی کہ اسلام بڑھے گا، پھولے گا اور پھلے گا اور کوئی اس کی ترقی کو روک نہیں سکتا۔سورۃ الفلق میں یہ بتایا کہ اے مسلمانو! جب تمہیں خدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں کے مطابق غلبہ مل جائے تو تم اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جانا اور دعا کرنا کہ تمہارے اندر کوئی ضعف پیدا نہ ہو اور تمہارا سورج کبھی ڈوبنے نہ پائے بلکہ نصف النہار پر چمکتا ر ہے۔اور کسی قسم کا شر پیدا نہ ہو۔اور نہ تو تمہارا اندرونی نظام درہم برہم ہو کر تمہارا شیرازہ بکھرے اور نہ کوئی بیرونی حاسد کھڑا ہو جائے اور تمہاری حکومت کو تباہ کر دے۔1107