نُورِ ہدایت — Page 1038
مادہ پیدا ہو جائے کہ جو اس سے تعلق جوڑے وہ بہتر ہونا شروع ہو جائے تو وہ صفت ربوبیت کا مظہر سمجھا جاتا ہے۔یہ صفت سب سے زیادہ حضرت محمد مصطفی صلیم میں پیدا ہوئی کیونکہ آپ اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم تھے۔پارس پتھر کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ جو چیز اس سے لمس کرتی ہے وہ سونا بن جاتی ہے۔پارس پتھر کی محمد مصطفی علم کی جوتیوں کے مقابل پر کیا حیثیت ہے۔آپ جس جگہ سے گزرتے تھے اس جگہ کو تبدیل کرتے چلے جاتے تھے۔آپ نے ایک نہایت ہی حیرت انگیز انقلاب برپا کیا ہے۔آپ نے ایک نہایت ہی ادنی اور ذلیل سوسائٹی کو پکڑا ہے اور انتہائی بلند مقامات پر پہنچا دیا ہے۔اس کو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا مظہر اتم۔اتمام ربوبیت کا مضمون بہت وسیع ہے اور بڑا پھیلا ہوا ہے اس کے اندر خدا کی کئی صفات آ جاتی ہیں جو ربوبیت کے تابع جلوہ دکھاتی ہیں۔قرآن کریم میں جہاں جہاں رب کا ذکر ہے وہاں کبھی کسی صفت کا اس ضمن میں ذکر ہے اور کبھی کسی صفت کا اس ضمن میں ذکر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ ربوبیت کے دروازے سے حمد میں داخل ہوں گے تو آپ کے لئے ایسی بہت سی نئی نئی گلیاں کھلیں گی ، نئے نئے راستے کھلیں گے کہ جن میں سفر کرتے ہوئے آپ پہلے سے زیادہ حسن اختیار کرتے چلے جائیں گے۔پس یہ ہے حمد کا مضمون جو آپ کی روز مرہ کی زندگی میں داخل ہو جائے گا۔پھر فرمایا الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ صفت رحمان کے اندر تو یہ جلوہ ہے کہ کوئی انسان مانگے یا نہ مانگے وہ فیض آپ اس کو پہنچا دیں۔وہ ناشکرا بھی ہو تب بھی آپ اس کو فیض پہنچائیں ، وہ آپ کو گالیاں دینے والا بھی ہوتب بھی آپ اس کو فیض پہنچائیں۔چنانچہ رحمانیت وہ عمومی فیض ہے جس میں سارے بنی نوع انسان شامل ہیں۔اس کے بعض پہلوؤں کے متعلق میں پہلے بیان کر چکا ہوں آج میں صرف اتنا ہی اس کے متعلق کہتا ہوں کہ رحمانیت کے بعض پہلو ایسے ہیں جن میں کافر ،مشرک بھی برابر کا شریک ہوتا چلا جاتا ہے اور کوئی جو مرضی کہے خدا کو گالیاں دے، اس کے متعلق گندی زبان استعمال کرے، خدا کے ماننے والوں کو دکھ دے تب بھی 1038