نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1027 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1027

قرآن کریم نے استغفار کے معنے میں وسعت پیدا کرتے ہوئے اس کو ان معنوں میں بھی استعمال کیا ہے کہ جو گناہ انسان سے صادر ہو چکے ہوں ان کے بدنتائج اور ان کی سزا سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی حفاظت طلب کی جائے۔چنانچہ قرآن کریم میں یہ لفظ اس مفہوم میں کثرت سے استعمال ہوا ہے۔اور یہ ادنی لوگوں کے لئے ہے۔کامل لوگوں کے لئے اس کا یہی مفہوم ہوتا ہے کہ قوم کی اصلاح کرتے ہوئے اگر کوئی امر نظر انداز ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کا ازالہ کر دے۔سورۃ نصر کی زیر تفسیر آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوحکم دیا ہے کہ اے ہمارے رسول ! اِسْتَغْفِرُهُ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو۔اسی طرح قرآن کریم میں بعض مقامات پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے استغفر لذنبك كے الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں کہ اپنے ذنب کے لئے استغفار کرو۔ایسے مقامات کو پڑھتے وقت یہ سوال ہوتا ہے کہ استغفار کا لفظ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کن معنوں میں استعمال ہوا ہے؟ کیا ان معنوں میں کہ آپ سے کوئی گناہ سرزد ہو اتھا اور پھر آپ کو حکم ہوا کہ آپ اس کی سزا سے بچائے جانے کی دعا کریں یا کسی اور معنے میں؟ ان آیات کو جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے استغفار کا لفظ استعمال ہوا ہے حل کرنے کے لئے یہ امر اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے آئے تھے اور اس دنیا میں اس لئے مبعوث کئے گئے تھے کہ تا گمراہ اور بے دین لوگوں کو باخدا انسان بنائیں اور تا گنا ہوں اور بدیوں میں گرفتار شدہ انسانوں کو پاک وصاف کریں۔اور آپ کا درجہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران (32) اے ہمارے رسول ! تم یہ بات لوگوں کو اچھی طرح سنا دو کہ اگر وہ خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں تو اُن کو چاہئے کہ وہ تیری اتباع کریں۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اللہ تعالی کے پیارے اور محبوب بن جائیں گے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے لقد كان 1027