نُورِ ہدایت — Page 1019
سورۃ کا سورۃ تودیع بھی ہے۔کیونکہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کہ نُعِیتُ إلی اور آپ نے سمجھ لیا ہمارا کام تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے خدا کے پاس چلے جاویں۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ جو آپ کا کام تھا وہ پورا ہو گیا ہے اور اب آپ کو اس دار فانی کو چھوڑنے کا وقت قریب آ گیا ہے تو آپ نے ظاہر فرمایا کہ اب میں عالم باقی میں انتقال کروں گا۔اس بات کوشن کر جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں۔آپ نے فرمایا تم کیوں روتی ہو؟ اہل بیت میں سے سب سے پہلے مجھ سے تم ہی ملو گی! یہ سن کر وہ مسکرانے لگیں۔اس میں بھی ایک پیشگوئی تھی۔چنانچہ اس کے بعد جلد آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور آپ کے بعد اہل بیت میں سب سے اول جس نے وفات پائی وہ حضرت فاطمہ ہی تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا یہ عجیب نمونہ ہے کہ حضرت فاطمہ کو آنحضرت کی وفات کی خبر نے رُلا دیا۔لیکن پھر اپنی وفات کی خبر نے اس واسطے ہنسایا کہ اس میں آنحضرت کے ساتھ دوسرے عالم میں ملاقات کی جلد صورت پیدا ہوگئی تھی۔اپنے مرنے کا خوف نہیں اور آنحضرت کے ساتھ ملاقات کی خوشی غالب ہے۔اخبار بدر قادیان 21 /نومبر 1912ء) سورۃ شریف میں إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ میں لفظ فتح سے مراد فتح مکہ ہے۔حمد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اس سورۃ شریف کے نزول کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رکوع وسجود میں یہ دعا بہت پڑھتے تھے۔سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ - اسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ۔اور ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے بیٹھتے ، آتے جاتے ، ہر وقت سُبحان اللہ و بحمدہ کہتے اور فرماتے کہ مجھے ایسا کہنے کے واسطے حکم دیا گیا ہے۔اور اس سورۃ کو پڑھتے۔اس میں اول تسبیح کا حکم ہے پھر تحمید کا اور پھر استغفار۔اس ترتیب میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات دو قسم پر ہیں۔ایک صفات سلبیہ اور دوم صفات ثبوتیہ۔1019