نُورِ ہدایت — Page 991
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے معصوم ہیں کہ ان کی حالت میں کجی اور انحراف اور بدی کی طرف تبدیلی واقع ہو۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معبود زمانہ گزشتہ میں بھی ایک خدا ہی تھا اور اب بھی وہی ہے اور آئندہ بھی وہی ایک ہوگا۔۔۔۔اس سورۃ شریف کا اول اس کے آخر کے مطابق ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا میں واحد خدا کی پرستش کرتا ہوں اور تمہارے معبودوں کی پرستش نہ کی ہے، نہ کرتا ہوں اور نہ کروں گا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ توحید اور اخلاص کا دین مجھے ہی عطا ہوا۔اور ایسا ہی تمہیں تمہارا حساب بھگتنا پڑے گا اور مجھے اپنا۔پس میری نصرت کی جائے گی اور میری عزت کی جائے گی اور میں تمہارے شہروں کو فتح کروں گا اور اس کے ساتھ دوسرے شہروں کو بھی فتح کروں گا۔اور لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوں گے اور تم میری مخالفت میں اپنے مال بھی خرچ کرو گے اور پھر بھی مغلوب رہو گے۔پس یہ دونوں دین بلحاظ اصول اور فروع اور نتیجہ کے یکساں نہیں رہیں گے۔پس اس سورۃ شریف میں کفر سے پوری بیزاری ظاہر کی گئی ہے۔ا قل۔کہہ دے۔بول۔یہ خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے۔اور آپ کی طفیل تمام مسلمانوں کو ہے کہ ایسے کفار کو جو کفر پر ایسے بچے ہیں کہ نہ پہلے کبھی انہوں نے خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور نہ آئندہ ان سے ایسی امید ہوسکتی ہے۔ان کو کہہ دو کہ تم جو اپنے کفر پر ایسے پکے ہو اور مسلمانوں کو برا سمجھتے ہو اس سے حق اور باطل میں تمیز ہو جائے گی کہ تم اپنے دین پر پگے رہو اور ہم اپنے دین پر پکے ہیں۔نتیجہ خود ظاہر کر دے گا کہ کون سچا اور منجانب اللہ ہے اور کون جھوٹا اور شیطانی راہ پر ہے۔چونکہ اس سورۃ شریف میں کفار کو مخاطب کیا گیا ہے اور ان کے مذہب کے بطلان کے واسطے ایک زبر دست دلیل پیش کی گئی ہے۔اسی واسطے یہ کلام بطور ایک چینج کے خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کو القاء کیا اور اسی واسطے اس کے شروع میں لفظ قُلی آیا ہے۔يَا أَيُّهَا الكَفِرُونَ سنواے منکرو! اس میں تین حروف ایک جگہ جمع کئے گئے ہیں۔991