نُورِ ہدایت — Page 970
قرآن کریم میں ذکر آتا ہے اور جو نفس کی اصلاح کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھتی ہیں۔مگر ہماری جماعت کی توجہ ان کی طرف بہت کم ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو دعائیں کیں ان میں بھی آتا ہے کہ الہی تیرے لئے اعتکاف کرنے والے لوگ اور تیری عبادت میں اپنا وقت گزارنے والے لوگ میری اولاد میں ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ احمدیوں کی اس طرف بہت کم توجہ ہے حالانکہ جب تک ان باتوں کی طرف توجہ نہ ہو انسان کا نفس کبھی جلا نہیں پاتا۔جلا نفس ہمیشہ ذکر الہی سے ہوتا ہے۔نمازوں کے متعلق بھی میں دیکھتا ہوں کہ اس امر کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی کہ نمازیں آہستگی کے ساتھ پڑھیں۔لوگ سنتیں جلدی جلدی ختم کر کے مسجد سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔جب فرض نماز ختم ہوتی ہے اور سنتیں پڑھنے کا وقت آتا ہے تو چھٹا پٹ ایک دوڑ شروع ہو جاتی ہے جو نہایت نامناسب اور اسلامی تعلیم کے خلاف حرکت ہے۔ہماری جماعت کے دوستوں کا فرض ہے کہ وہ ٹھہر ٹھہر کر نمازیں پڑھا کریں اور اپنے اوقات کا ایک بڑا حصہ ذکر الہی اور دعاؤں میں صرف کیا کریں اور دوسرے مسلمانوں سے بھی انہیں یہی کہنا چاہئے کہ وہ عبادت اور ذکر الہی پر زور دیں، کیونکہ اسلام کی اصل ترقی ذکر الہی اور عبادت پر زور دینے سے ہی ہوگی۔آج کل کے لوگ مغربی تہذیب کے ماتحت یہ سمجھتے ہیں کہ ذکر الہی وغیرہ کرنا اور مصلے پر بیٹھے رہنا وقت کو ضائع کرنا ہے۔حالانکہ یہ مصلے پر بیٹھ کر ذکر الہی کرنے والے ہی تھے جنہوں نے بارہ سال کے اندر اندر آدھی دنیا تہ و بالا کر دی۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ مصلے پر بیٹھنے سے وقت ضائع نہیں ہوتا بلکہ انسان کو ایسی برکت ملتی ہے کہ وہ بڑے بڑے کام تھوڑے سے وقت میں کر لیتا ہے۔پس مصلے پر بیٹھنے کے معنے نکما پن کے نہیں بلکہ درحقیقت اس سے ایسی مہارت پیدا ہو جاتی ہے اور دل میں اس قسم کا نور پیدا ہو جاتا ہے کہ تھوڑے سے وقت میں انسان بڑے بڑے کام کر لیتا ہے۔اگر تین گھنٹے وہ ذکر الہی میں مصروف رہتا ہے تو بیشک 970