نُورِ ہدایت — Page 969
محمد رسول اللہ علم کی ہی بعثت ثانیہ ہے۔جب ہماری جماعت یہ تسلیم کرتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام محمد رسول الله علیم کے حل کامل میں تو ہماری جماعت کو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ بیت اللہ کا ظل وہ مقام ہے جہاں خدا تعالیٰ کا نام روشن ہوتا ہے اور صحابہ کا ظل وہ جماعت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لا چکی ہے۔اس صورت میں جو فرائض اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیت اللہ میں رہنے والوں پر عائد ہو چکے ہیں یقیناً وہی فرائض ہماری جماعت پر بھی عائد ہوتے ہیں۔دنیا میں بھی ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ جب باپ مر جاتا ہے تو تمام بھائیوں میں سے بڑا بھائی اس کا قائم مقام بن جاتا ہے۔اُس وقت کوئی نہیں پوچھتا کہ ہمارا یہ بڑا بھائی باپ کا قائم مقام کس طرح بن گیا۔کیونکہ عقل کہتی ہے کہ جب اصل سامنے نہ ہو تو بہر حال اس کا کوئی ظل ہونا چاہئے۔اور پھر عقل یہ بھی کہتی ہے کہ جو ذمہ واریاں اصل پر عائد ہوتی ہیں وہی ذمہ داریاں ظل پر بھی عائد ہوں گی۔پس ہماری جماعت جب ظلی رنگ میں محمد رسول اللہ مالی کی ہی جماعت ہے اور ظل محمد پر ایمان لا کر ہم محمد رسول اللہ علیم کی جماعت میں شامل ہو چکے ہیں تو ہمیں بھی ان آیات کا اپنے رض آپ کو ویسا ہی مخاطب سمجھنا پڑے گا جیسے صحابہ مخاطب تھے۔اور ہمیں بھی وہی کچھ کرنا پڑے گا جو صحابہ نے کیا۔اللہ تعالیٰ ان آیات میں زمانہ محمدی کے لوگوں سے کہتا ہے فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا البيت تم کو چاہئے کہ تم عبادتوں میں اپنا وقت لگاؤ اور ذکر الہی کی عادت ڈالو۔یہی کام احمدیوں کا ہے۔مگر افسوس ہے کہ احمدیوں نے اب تک اس مقام کو نہیں پایا۔کتنے احمدی ہیں جو اس معیار پر پورے اترتے ہیں۔بے شک دوسروں سے زیادہ چندہ دینے والے احمدی موجود ہیں مگر چندہ سے تو دین نہیں پھیلتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ دین کی ترقی تو نفس کی صفائی اور عبادت کی کثرت سے ہوتی ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ ذکر الہی اور عبادت کی طرف بہت ہی کم توجہ ہے۔فرض نمازیں بیشک وہ دوسروں سے زیادہ ادا کرتے ہیں مگر ذکر الہی کرنا، مساجد میں بیٹھنا، راتوں کو اٹھ کر تہجد ادا کرنا، اعتکاف کرنا۔یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جن کا 969