نُورِ ہدایت — Page 966
اتنے نکتے ہو گئے ہیں کہ ہماری عبادت تک نہیں کرتے۔ہم نے ان کے دلوں میں جو ایلاف کیا اور اس کے نتیجہ میں رِحْلةَ الشَّتَاءِ وَالصَّيْف کو قائم کیا۔ان کے سفر نفع مند ہو گئے اور ان کی بھوکیں دُور ہو گئیں۔انہیں سوچنا چاہئے کہ یہ سب کچھ کیوں کیا گیا؟ آخر ہماری کوئی غرض تھی، کوئی مقصد تھا، کوئی وجہ تھی جس کی بناء پر ان سے یہ سلوک کیا گیا تھا۔اور وہ وجہ یہی تھی کہ وہ اس گھر کو آباد رکھیں۔پس چاہئے کہ جبکہ ہم نے اپنا حق ادا کر دیا ہے تو یہ بھی اپنا حق ادا کریں اور عبادت الہی میں اپنا وقت گزاریں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ سفر بھی لوگوں کے دلوں میں حج کا شوق پیدا کرنے اور انہیں خانہ کعبہ کی طرف متوجہ کرنے کا ایک بڑا ذریعہ تھے۔جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں اہلِ عرب کو شروع میں حج کی طرف کوئی زیادہ توجہ نہیں تھی۔پس اللہ تعالیٰ نے ان سفروں کو انہیں حج کی طرف متوجہ کرنے کا ایک ذریعہ بنا دیا۔جب یہ لوگ ان کے گھروں میں جاتے اور ذکر کرتے کہ ہم مکہ سے آئے ہیں جہاں خانہ کعبہ ہے اور جس کا اس طرح حج کیا جاتا ہے اور جس سے بڑی بڑی برکتیں حاصل ہوتی ہیں تو تمام عرب میں پراپیگنڈا ہو جاتا اور وہ لوگ جو حج سے غافل تھے ان کے دلوں میں بھی حج کرنے کی تحریک پیدا ہو جاتی۔اس طرح ان کو روزی بھی مل جاتی اور حج بھی لوگوں میں زیادہ سے زیادہ مقبول ہوتا چلا جاتا۔چوتھے معنے اس کے یہ ہیں کہ تعجب ہے مکہ والوں نے اپنے نفسوں پر سردی اور گرمی کے سفر واجب کر چھوڑے ہیں اور بیٹھ کر خدا تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے۔یہ معنے بھی بعض مفسرین نے کئے ہیں۔یعنی تعجب ہے کہ یہ دخل الشَّتَاءِ وَالصَّيْف تو کرتے ہیں مگر عبادت نہیں کرتے۔انہیں چاہئے کہ یہ ان سفروں کو چھوڑ دیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اپنا وقت گزار ہیں۔مگر جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ معنے درست معلوم نہیں ہوتے۔اس لئے کہ ساری تاریخ اور خود عبارت کی بناوٹ بتا رہی ہے کہ یہاں ان کے اس فعل کو بُرا نہیں کہا گیا بلکہ اسے اچھا 966