نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 947 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 947

میں آبسے۔وہ بھوکے بھی رہے، وہ ننگے بھی رہے، وہ تکلیفیں بھی برداشت کرتے رہے مگر انہوں نے مکہ کو نہ چھوڑا۔اب سوال یہ ہے کہ وہ کیا اتفاق تھا جس نے دو ہزار سال کے بعد قوم میں خانہ کعبہ کے گرد بسنے کا پھر احساس پیدا کر دیا۔علم النفس کے ماتحت اگر ہم غور کریں تو دو ہزار سال کے بعد یہ ذکر قوم میں سے بالکل مٹ جانا چاہئے تھا۔مگر ہوا یہ کہ دوہزار سال کے بعد یکدم ان میں ایک شخص پیدا ہوا اور اس نے کہا کہ ہم کو پھر مکہ میں جمع ہو جانا چاہئے اور اولاد اسمعیل میں سے ایک قبیلہ باوجود ہر قسم کے مخالفانہ حالات کے مکہ میں بیٹھ جاتا ہے اور خانہ کعبہ کی خدمت اور مکہ کی حفاظت کا کام اپنے ذمہ لے لیتا ہے اور پھر یہ لوگ اس کام کو اتنی محبت اور اتنے پیار سے سر انجام دیتے ہیں کہ وہ بھوکے مرتے ہیں۔ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے بچے تڑپ تڑپ کر جان دیتے ہیں۔ان کی بیویاں اور ان کی بیٹیاں مرتی ہیں۔مگر وہ مکہ کو چھوڑ نے کا نام نہیں لیتے۔اتنا شدید احساس دو ہزار سال گزرنے کے بعد ان لوگوں میں کیوں پیدا ہوا؟ اور پھر اسی قبیلہ کے دل میں یہ خیال کیوں پیدا ہوا جس میں سے محمد رسول اللہ صل العلیم نے پیدا ہونا تھا۔ایک معمولی غور سے یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ یہ قدرت کی ایک انگلی تھی جس نے قوم کو اشارہ کیا کہ جس بات کے لئے تمہارے باپ دادا نے اس مکہ کو آباد کیا تھا اس کا وقت اب بالکل قریب آرہا ہے۔جاؤ اور مکہ میں رہو۔ورنہ یہ اتفاق کس طرح ہوسکتا ہے کہ دو ہزار سال ادھر اُدھر پھرنے کے بعد ایک بڑی قوم کا صرف وہی ٹکڑا نگہ میں جمع ہوتا جس میں سے آنے والے موعود نے پیدا ہونا تھا۔دشمن کہہ سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ علی ایم نے نعوذ باللہ جھوٹا دعویٰ کر دیا۔مگر سوال یہ ہے کہ آخر یہ کیا بات ہے کہ اس جھوٹے کی آمد سے پہلے تمام قوم چاروں طرف سے اکٹھی ہو کر مکہ میں آجاتی ہے اور اس لئے آتی ہے کہ ہمارے دادا ابراہیم نے کہا تھا کہ تم اس مقام پر رہو اور اسے آباد رکھو کہ یہ عالمگیر مذہب کا مرکز بنے والا ہے۔یہ عظیم الشان تغیر جو یکدم بنو اسمعیل میں پیدا ہوا اور جس نے ان میں تہلکہ ڈال دیا بتاتا ہے کہ یہ سب کچھ 947