نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 938 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 938

میں جا کر بس گئے ہوں۔سوچونکہ یہ اعتراض پیدا ہو سکتا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے ان کی عزت ظاہر کرنے کے لئے پھر دوسری دفعہ ان کو قربانی کا موقع دیا۔مگہ میں بسنے کی وجہ سے ان کے گزارہ کی کوئی صورت نہ رہی۔حج کی طرف عربوں کو بہت کم توجہ تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ فاقوں کی وجہ سے جانوں کے اتلاف تک نوبت پہنچ گئی۔یہ لوگ کافر بھی تھے ، مشرک بھی تھے، بے دین بھی تھے اور ان میں سینکڑوں قسم کی خرابیاں پائی جاتی تھیں لیکن اس قوم میں بعض غیر معمولی خوبیاں بھی تھیں۔مکہ کے لوگوں میں سے جب کسی خاندان کے پاس کھانے پینے کا سامان بالکل ختم ہو جاتا اور اس کی حالت غیر ہو جاتی۔وہ دوست بھی جو ان کی حالت سے آگاہ ہوتے مدد سے لاچار ہوتے کیونکہ وہ خود بھی غریب ہی ہوتے تھے تو وہ فاقہ کش لوگ قصی پر اعتراض نہیں شروع کر دیتے تھے کہ اس نے ہمیں غلط تعلیم دی تھی۔ہم مکہ چھوڑ کر چلے جائیں گے۔وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ ہم نے بیوقوفی کی کہ ایسی جگہ آیسے جہاں روٹی کا کوئی سامان نہیں تھا بلکہ وہ خاندان اسی وقت اپنا خیمہ اٹھا کر مکہ سے ذرا باہر چلا جاتا ( مکانوں کا رواج عرب میں بہت کم تھا بلکہ اب تک بھی بادیہ کے لوگ خیموں میں رہتے ہیں) اور مکہ سے دو تین میل پرے اپنا خیمہ لگا لیتا اور اپنے بیوی بچوں کو بھی وہیں لے جاتا تا کہ اس کے رشتہ داروں، دوستوں اور محلہ والوں کو اس کی اس بُری اور خراب حالت کا پتہ نہ لگے۔اور وہیں وہ سب کے سب بھو کے مر جاتے۔میں سمجھتا ہوں یہ اس قسم کی قربانی ہے کہ اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔لوگ بھوکے ہوتے ہیں تو وہ فوراً کسی دوسری جگہ جا کر اپنی حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ دوسروں سے سوال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور صبر اور برداشت کی قوت کو بالکل کھو بیٹھتے ہیں۔د وہ لوگ مشرک تھے لیکن ان میں محمد رسول اللہ صلم کی امت بننے کی قابلیت خدا تعالیٰ پیدا کر رہا تھا۔یہ کتنی بڑی قربانی ہے کہ وہ مگہ سے کچھ فاصلہ پر خیمے لگا لیتے اور اپنے 938