نُورِ ہدایت — Page 936
نضر نے مکہ میں آبٹھایا تھا یا یوں کہو کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی کچھ اولاد قریش کہلائی کیونکہ وہ اردگرد سے لا کر مکہ میں بیت اللہ کی خدمت کے لئے لا بٹھائی گئی تھی۔ا سوال پیدا ہوتا ہے کہ قریش تو تصغیر کا صیغہ ہے اور معنے یہ ہیں کہ مکہ میں جمع ہو جانے والا ایک چھوٹا سا ٹکڑایا ایک چھوٹا سا گروہ۔پھر کیا وجہ ہے کہ آلِ اسماعیل کو ایک چھوٹا سا گروہ یا چھوٹا سا ٹکڑا کہا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حکم تو سارے بنو اسمعیل کو تھا کہ وہ مکہ میں رہیں۔اللہ تعالیٰ کی عبادت اور پرستش کریں اور جو لوگ حج اور طواف کے لئے آئیں ان کی خدمت کریں۔مگر چونکہ بنو کنانہ میں سے صرف نضر بن کنانہ کی اولا د مکہ میں آکر بسی اور چونکہ وہ سارے بنو اسماعیل میں سے ایک چھوٹا سا گروہ تھا اس لئے وہ قریش کہلائے۔یہ بتانے کے لئے کہ ہم تھوڑے سے آدمی ہیں جو اپنے دادا ابراہیم کی بات مان کر یہاں جمع ہو گئے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور جولوگ خانہ کعبہ کے حج کے لئے آئیں ان کی خدمت کریں۔اور شاید اس نام میں اس طرف بھی اشارہ ہو کہ دوسرے قبائل کو بھی مکہ میں جمع ہونے کی تحریک ہوتی رہے اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کی باقی اولاد کے دل میں بھی یہ خیال پیدا ہوتا رہے کہ جب ہم سے تھوڑے سے لوگ وہاں بس گئے ہیں اور انہوں نے ہر قسم کی تکلیف کو برداشت کر لیا ہے تو ہم بھی تو اولاد ابراہیم میں سے ہیں اگر ہم بھی وہاں جابسیں اور اپنے دادا کے حکم کو مان لیں تو اس میں حرج کیا ہے۔پس شاید اس تصغیر میں ایک یہ بھی حکمت ہو کہ اس نام سے باقی بنو اسمعیل کے دل میں تحریک ہوتی رہے اور وہ بھی اپنے دادا ابراہیم کی بات کو مانتے ہوئے خدا تعالیٰ کے گھر کی خدمت کے لئے مکہ میں آبسیں۔پس ممکن ہے کہ اس نام سے انہوں نے دوسرے قبائل کے اندر تحریک کرنے کی ایک صورت پیدا کی ہو اور مکہ میں ان کے جمع ہونے کے لئے ایک تحریک جاری کی ہو۔غرض قصی بن کلاب کی تحریک پر یہ لوگ آئے اور مکہ میں بس گئے۔مگر ابتدا میں عرب کی 936