نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 935 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 935

دل میں اتنے زور سے پیدا ہوا کہ انہوں نے بنو نضر کے اندر یہ تحریک شروع کی کہ آؤ ہم لوگ اپنے سارے کام کاج چھوڑ کر مکہ میں جابسیں اور خانہ کعبہ کی خدمت کریں۔یہ مناسب نہیں کہ ہم دنیوی اغراض کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وعدہ کو بھول جائیں اور جو نصیحت انہوں نے اپنی اولاد کو کی تھی اس کی پروا نہ کریں۔انہوں نے جب ہمارے سپرد یہ کام کیا تھا کہ ہم خانہ کعبہ کی خدمت کریں تو ہمارا فرض یہی ہے کہ ہم مکہ میں چلے جائیں اور خانہ کعبہ کی خدمت کریں۔چنانچہ ان کی قوم نے ان کی بات مان لی اور وہ سب مگہ میں اکٹھے ہو گئے۔یہ ایک بہت بڑی قربانی تھی جو انہوں نے کی۔وہ باہر بڑی بڑی اچھی چراگاہوں میں رہتے تھے، وہ تجارتیں بھی کرتے تھے، وہ زمینداریاں بھی کرتے تھے۔وہ اور کئی قسم کے کاروبار میں بھی حصہ لیتے تھے مگر یکدم ساری قوم نے اپنی زمینیں چھوڑیں، گلہ بانی چھوڑی، زمینداری چھوڑی، تجارت چھوڑی اور ایک وادی غیر ذی زرع میں جہاں آمدن کی کوئی صورت نہیں تھی آبیٹھے۔میں سمجھتا ہوں اس قربانی کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی کہ ایک قوم کی قوم اپنے پیشے چھوڑ کر محض اس لئے ایک وادی غیر ذی زرع میں آبیٹھی کہ ان کے دادا ابراہیم نے اپنی اولاد کو یہ نصیحت کی تھی کہ تم مگہ میں رہو اور جولوگ یہاں حج اور طواف اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے آئیں ان کی خدمت کرو۔یہ ایک بہت بڑی قربانی تھی جو انہوں نے کی۔پس چونکہ یہ لوگ متفرق ہونے کے بعد پھر اپنے گھر بار چھوڑ کر مکہ میں جمع ہو گئے تھے تا کہ ابراہیمی وعدہ کو پورا کریں اس لئے ان کا نام قریش رکھا گیا۔۔۔۔قرش کے معنے جمع کرنے کے ہیں۔پس قریش وہ قبیلہ ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے مکہ میں جمع کیا گیا اور اسی لئے ان کا نام قریش ہوا۔انہیں اس لئے قریش نہیں کہتے تھے کہ وہ باقی تمام قبائل عرب پر غالب تھے اور قرش کی طرح ان کو کھا جاتے تھے۔قریش کو عربوں میں یہ شہرت اور عزت رسول کریم علیہ کے قریب زمانہ میں حاصل ہوئی ہے ورنہ اس سے پہلے تو یہ لوگ مجاوروں کی طرح وہاں بیٹھے ہوئے تھے اور قبائل عرب پر ان کو کوئی غلبہ حاصل نہیں تھا۔پس قریش کے معنے ہیں وہ قبیلہ جو اردگرد سے اکٹھا کر کے قصی بن کلاب بن 935