نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 920 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 920

تھا۔ورنہ اگر یہ مفہوم نہ لیا جائے تو اصحاب الفیل کے واقعہ کا علم رکھنے میں محمد رسول اللہ علیم کی کیا خصوصیت ہے۔عرب کا بچہ بچہ جانتا تھا کہ ایسا واقعہ ہوا ہے بلکہ خود رسول کریم حالا ایلیم کے وقت تک ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے اصحاب الفیل کا واقعہ دیکھا تھا۔ایسی صورت میں الغر تر کہنے کے کوئی معنے ہی نہیں بنتے۔وہ واقعہ جو اور ہزاروں لوگوں کو معلوم تھا اور جس کو دیکھنے والے بھی کئی زندہ موجود تھے۔اسی واقعہ کا اگر رسول کریم بیا یہ کوبھی علم ہو گیا تو اس میں آپ کی خصوصیت کیا رہی؟ آپ کی خصوصیت اسی صورت میں ظاہر ہوتی ہے کہ اس واقعہ کا آپ سے کوئی خاص تعلق ہو۔پھر اس آیت میں اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ کے الفاظ ہیں۔یعنی تیرے رب نے کس طرح کیا۔یہ نہیں فرمایا کہ آلَمْ تَرَ مَا فَعَلَ رَبُّكَ تجھے معلوم نہیں کہ تیرے رب نے کیا کیا۔کس طرح کیا اور کیا کیا، میں بہت بڑا فرق ہے۔اگر صرف یہ بیان کرنا مقصود ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل سے کیا کیا تو کیف کا لفظ اللہ تعالیٰ اس جگہ استعمال نہ کرتا۔مگر اس نے کیف کا لفظ استعمال کیا ہے جو بتاتا ہے کہ یہاں یہ بیان کرنا مقصود نہیں کہ اصحاب الفیل سے کیا ہوا۔بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ اصحاب الفیل سے جو کچھ ہوا کس طرح ہوا۔عربی زبان کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ کلام کے مفہوم میں بہت بڑی تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔کیف کے لفظ نے مضمون کو ایسی خوبی بخش دی ہے جو اس کی شان کو بہت بڑھا دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَل ربك تمہیں معلوم ہے کہ ان سے کس طرح کیا۔یہاں کمیت پر زور دینا مقصود نہیں۔یہ مراد نہیں کہ دس مرے تھے یا سو۔ہاتھی مرے تھے یا کتے۔افسر مرے تھے یا ما تحت۔بلکہ ان غیر معمولی حالات کی طرف اشارہ مقصود ہے جن میں ان کی ہلاکت واقعہ ہوئی۔خواہ ایک ہی شخص مرا ہو مگر وہ مرا اس طرح کہ دنیا کہتی تھی کہ وہ نہیں مرے گا مگر پھر بھی وہ مر گیا۔پس یہاں کمیت کا بتانا مقصود نہیں بلکہ کیفیت کا بتانا مقصود 920