نُورِ ہدایت — Page 913
ہے رحمانیت میں زمین کی پیدائش بھی شامل ہے۔رحمانیت میں پانی بھی شامل ہے۔رحمانیت میں ہوا بھی شامل ہے۔رحمانیت میں انسان کا اپنا جسم بھی شامل ہے۔رحمانیت میں اس کے تمام قومی مثلاً ناک کان اور آنکھیں وغیرہ بھی شامل ہیں۔رحمانیت میں حیوانات بھی شامل ہیں۔رحمانیت میں جمادات بھی شامل ہیں۔رحمانیت میں چاند اور ستارے وغیرہ بھی شامل ہیں۔غرض جو کچھ بھی اس دنیا میں پایا جاتا ہے جس کے بنانے میں ہم نے محنت نہیں کی وہ رحمانیت کا نتیجہ ہے اور ہر چیز جس کے بنانے میں ہم نے ہاتھ ہلایا ہے وہ رحیمیت ہے۔دنیا میں دو ہی چیزیں ہیں۔یا تو ایسی چیزیں ہیں جن کے بنانے میں انسان نے حصہ نہیں لیا۔یا ایسی چیزیں ہیں جن کے بنانے میں انسان نے حصہ لیا ہے۔وہ چیزیں جن کے بنانے میں انسان نے حصہ نہیں لیا وہ رحمانیت کی صفت کے ماتحت آتی ہیں۔ان کے لئے کیوں رحمانیت کا لفظ بولا گیا ہے؟ کیوں نہیں کہا گیا کہ کچھ چیزیں خدا نے بنائی ہیں اور کچھ ایسی ہیں جن میں بندوں کی محنت اور ان کی کوشش کا دخل ہے۔کیوں خدا نے یہ نہیں کہا اور لفظ رحمن سے اس مفہوم کو ادا کیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر یہ لفظ بولے جاتے کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو خدا نے پیدا کی ہیں اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جو بندوں نے بنائی ہیں تو ان الفاظ سے یہ نتیجہ تو نکلتا کہ ان پیدا کی ہوئی اشیاء میں سے کچھ چیزیں خدا کی بھی ہیں مگر یہ نتیجہ نہ نکلتا کہ جو چیزیں خدا نے پیدا کی ہیں وہ سب کی سب انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔یہ سوال بہر حال باقی رہ جاتا کہ وہ چیزیں جو خدا نے بنائی ہیں وہ کسی فائدہ کے لئے ہیں یا ان میں سے کچھ بے فائدہ بھی ہیں۔مگر رحمانیت کے لفظ نے بتا دیا کہ وہ سب کی سب ہمارے فائدہ کے لئے ہیں۔رحم کا لفظ کسی کو فائدہ پہنچانے کے لئے بولا جاتا ہے۔یونہی نہیں بولا جاتا۔مثلاً اگر سورج چمک رہا ہو تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ بڑا رحم کر رہا ہے۔کیونکہ رحم میں دو باتوں کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے۔اول دوسرے کے فائدہ کا کام کرنا۔دوم اس نیت سے کرنا کہ دوسرے کو فائدہ پہنچے۔فرض کرو کوئی شخص جا رہا ہے اور اس کی جیب سے اتفاقاً ایک پیسہ گر گیا ہے۔کسی اور نے اٹھالیا 913