نُورِ ہدایت — Page 82
کس طرح مفسد زیادہ ہو گئے ہیں اور مصلح اور غم خوار کم ہو گئے ہیں۔اور قریب ہے کہ شریعت نابود ہو جائے اور ملت پوشیدہ ہو جائے۔یہ ایسی مصیبت ہے جو نا گہاں وارد ہوئی ہے۔ایسی بپتا ہے جوٹوٹ پڑی ہے۔ایسی بدی ہے جو یکدم پھوٹ پڑی ہے اور ایسی آگ ہے جس نے عرب و عجم کو جلا دیا ہے۔بایں ہمہ ہمارا زمانہ جہاد کا زمانہ نہیں اور نہ تیز تلواروں کا زمانہ ہے۔نہ گردنیں مارنے اور زنجیروں میں جکڑنے کا وقت ہے۔نہ ہی گمراہوں کو زنجیروں اور طوقوں میں گھسیٹنے اور اُن پر قتل اور ہلاکت کے احکام جاری کرنے کا زمانہ ہے۔یہ زمانہ کافروں کے غلبہ اور ان کے عروج کا زمانہ ہے اور مسلمانوں پر اُن کے اعمال کی وجہ سے ذلت مسلط کر دی گئی ہے۔اب جہاد بالسیف) کیوں کیا جائے جب کہ (اس زمانہ میں ) نہ کسی کو نماز اور روزہ سے روکا جاتا ہے نہ حج اور زکوۃ سے اور نہ پاک دامنی اور پرہیز گاری سے اور نہ ہی کسی کافر نے مسلمانوں کو مرتد کرنے یا انہیں ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے ان پر تلوار سونتی ہے۔انصاف تو یہ ہے کہ تلوار کے مقابلہ میں تلوار اٹھائی جائے اور قلموں کے مقابلہ میں قلمیں۔ہم آج تلوار اور نیزے کے زخموں پر نہیں روتے۔ہم تو ( ان کی) زبانوں سے پھیلائی ہوئی مفتریات پر روتے ہیں۔(اس زمانہ میں ) انہی مفتریات سے اللہ کے صحیفوں کو جھٹلایا گیا اور ان کے اسرار پر پر دے ڈالے گئے۔ملت (اسلامیہ) کی عمارت پر حملہ کیا گیا اور اس کے گھر کو مسمار کر دیا گیا۔پس یہ (ملت) ایک ایسے شہر کی مانند ہوگئی ہے جس کی فصیلیں ٹوٹ گئی ہوں یا ایسے باغیچہ کی طرح ہے جس کے درخت جلا دئیے گئے ہوں یا ایسے باغ کی مانند ہے جس کے پھول اور پھل برباد کر دیئے گئے ہوں اور اس کے شگوفے توڑ کر پھینک دیئے گئے ہوں یا ایسے ملک کی مانند ہے جو کبھی بہت برکتوں والا تھا لیکن اب اس کی نہریں خشک ہو چکی ہوں یا ایسے مضبوط محلات کی مانند ہے جن کے نشان تک مٹادئیے گئے ہوں۔برباد کر نے والوں نے انہیں پارہ پارہ کر دیا ہو اور کہہ دیا ہو کہ وہ (ملت) مرچکی ہے اور اس کی موت کی خبر دینے والوں نے اس کی موت کی خبر دے دی ہو۔اس کے حالات چھپ چکے ہوں اور شائع کرنے والوں نے انہیں شائع کر دیا ہو۔بے شک ہر کمال کے لئے زوال ہے اور ہر جوانی نے (ایک 82