نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 877 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 877

ہے وہ کلی طور پر ممنوع ہے۔اور جو تفاخر زندگی پیدا کرتا ہے وہ منع نہیں۔چنانچہ رسول کریم علیم کے متعلق آتا ہے کہ آپ نے ایک دفعہ فرمایا انا سيد ولد آدم وَلَا فَجر مجھے خدا تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کا سردار بنایا ہے مگر اس کے باوجود میں اس پر فخر نہیں کرتا۔یہ نہیں کہ میں تم کو ذلیل سمجھوں اور اپنے آپ کو تم سے کوئی علیحدہ ہستی قرار دوں۔میرا فرض ہے کہ میں سید ولد آدم ہونے کے باوجود تمہاری خدمت کروں اور تمہیں ترقی کے میدان میں بہت آگے لے جاؤں۔اسی طرح فرماتے ہیں تَزَوَّجُوْا وُلُودًا وُدُودًا فَأَنَا مُكَاثِرُ بِكُمُ الْأُمَمَ وَمُفَاخِرُ بِكُمْ (ابو داؤد) تم شادیاں کرو جننے والی اور محبت کرنے والی عورتوں سے کیونکہ تمہارے ذریعہ سے میں دوسری قوموں پر فخر کرنے والا ہوں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کثرت تعداد کو صرف جائز ہی نہیں بلکہ پسندیدہ قرار دیتا ہے مگر چونکہ بعض کثرتیں نہایت گندی ہوتی ہیں اس لئے رسول کریم علیم نے فرمایا کہ میں صرف یہ خواہش نہیں رکھتا کہ تم اپنی تعداد کے لحاظ سے دوسری قوموں سے بڑھ جاؤ بلکہ میری خواہش یہ بھی ہے کہ باوجود کثیر ہونے کے تم ایسے نیک اور پاک بنو کہ میں قیامت کے روز دوسری امتوں کے مقابلہ میں تم پر فخر کر سکوں۔اس حدیث میں وُلُود کا لفظ کثرت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وُدُود میں تفاخر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ رسول کریم عالی محض کثرت پر نہیں بلکہ اپنی امت کے اعلیٰ اخلاق پر فخر کریں گے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر ماں باپ اپنی اولاد کی اعلیٰ تربیت کریں اور کوشش کریں کہ ان کی نیکی صرف ان کی ذات تک محدود نہ رہے بلکہ اس کا اثر نسلاً بعد نسل ان کی اولاد میں بھی منتقل ہوتا چلا جائے تو وہ ایسی اعلیٰ درجہ کی نسلیں پیدا کر سکتے ہیں جو اسلام اور رسول کریم علیم کے لئے باعث فخر ہوں۔افسوس کہ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اپنی اولاد کی صحیح تربیت کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ان میں ذاتی طور پر تقویٰ بھی ہوتا ہے، روحانیت بھی ہوتی ہے، اعلیٰ اخلاق بھی ہوتے ہیں، رافت 877