نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 867 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 867

انسان چاہتا ہے کہ عیش و عشرت کے ایسے ایسے سامان میسر آجاویں۔ایسا مکان ہو۔ایسا لباس ہو۔اور یہ سب خواہشات انسان کے شامل حال ہیں۔پھر ان میں غلطی کیا ہے۔خدا تعالیٰ نے بھی ایک دعا سکھاتی ہے ربِّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً (البقرہ 202) اس دعا میں اللہ کریم سے اسی دنیا میں حسنہ مانگی گئی ہے۔مگر یاد رکھو غلطی صرف یہ ہے کہ ناجائز طریقوں سے یہ خواہشات پوری کرنے کی کوشش کی جاوے۔اور ان دھندوں میں پھنس کر اپنے مولی سے انسان غافل ہو جاوے۔اللہ جل شانہ سے غفلت بہت بُری بلا ہے۔حتی زُرتُمُ الْمَقَابِرَ صحیحین میں روایت ہے کہ ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے۔اور دو چیزیں اس کی جوان رہ جاتی ہیں۔ایک ان میں سے حرص مال ہے۔ابوھریرہ سے یہ مروی ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۃ التکاثر پڑھی اور پھر فرمایا۔بندہ کہتا ہے کہ یہ میرا مال ہے۔یہ میرا مال ہے۔حالانکہ اس کا مال تو صرف اتنا ہی ہے جو کھالیا۔وہ تو فنا کر دیا۔اور جو پہن لیا اس کو پرانا کر دیا۔اور جو خدا کی راہ میں دے دیا اس کو آگے کے لئے جمع کیا۔ان تین قسموں کے سوا جو کچھ اور مال ہے وہ تو لوگوں کا ہے۔(ماخوذ از حقائق الفرقان ) ( ضمیمه اخبار بدر قادیان 19 ستمبر 1912ء) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: م یہ سورۃ جمہور کے نزدیک ملی ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے سورۃ تکاثر کو ہزار آیات کے برابر بتایا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص روزانہ رات کو ہزار آیات پڑھ لیا کرے وہ اللہ تعالیٰ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ خدا اُسے دیکھ کر خوش ہوگا۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ طاقت کس انسان کو حاصل ہو سکتی ہے کہ وہ ہزار آیات روزانہ پڑھا کرے۔اس پر آپ نے سورۃ تکاثر کی تلاوت شروع کر دی یہاں تک کہ آپ اس کے آخر تک پہنچ گئے۔پھر آپ نے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہ سورۃ ہزار آیات کے برابر ہے۔867