نُورِ ہدایت — Page 72
ان میں سے تیسر ا سمندر الرحمن ہے اور اس سے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کا جملہ سیراب ہوتا ہے تا انسان ہدایت اور رحمت پانے والوں میں ہو جائے کیونکہ صفتِ رحمانیت ہر اُس وجود کو جو صفت ربوبیت سے تربیت پاچکا ہے وہ سب کچھ مہیا کرتی ہے جس کی اسے حاجت ہو۔پس یہ صفت تمام وسائل کو رحم پانے والے کے موافق بنا دیتی ہے اور ربوبیت کا نتیجہ وجود کو کامل قومی دینا اور ایسے طور پر پیدا کرنا ہے جو اس کے لائق حال اور مناسب ہے۔اسی صفت کا اثر یہ ہے کہ یہ ہر وجود کو اس کے عیوب کو چھپا دینے والا لباس پہناتی ہے۔اسے زینت عطا کرتی ہے۔اس کی آنکھوں میں سرمہ لگاتی ہے۔اس کے چہرہ کو دھوتی ہے۔اس کو سواری کے لئے گھوڑا دیتی ہے۔اور اس کو شاہسواروں کے طریق بتاتی ہے اور صفت ( رحمانیت) کا درجہ ربوبیت کے بعد ہے وہ ہر چیز کو اس کے وجود کا مطلوب عطا کر کے اسے توفیق یافتہ لوگوں میں سے بنا دیتی ہے۔ان میں سے چوتھا سمندر صفت الرّحِیم ہے اور اس سے صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمُ کا جملہ مستفیض ہوتا ہے تا بندہ خاص انعام یافتہ لوگوں میں شامل ہو جائے۔کیونکہ رحیمیت ایسی صفت ہے جو ان انعامات خاصہ تک پہنچا دیتی ہے جن میں فرمانبردارلوگوں کا کوئی شریک نہیں ہوتا۔گو ( اللہ تعالیٰ کا) عام انعام انسانوں سے لے کر سانپوں ، اثر د ہاؤں تک کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے۔ان میں سے پانچواں سمندر ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ ( کی صفت) ہے۔اور اس سے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کا جملہ مستفیض ہوتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے غضب اور اس کے (انسان کو ) ضلالت اور گمراہی میں چھوڑ دینے کی حقیقت لوگوں پر مکمل طور پر جزا اور سزا کے دن ہی ظاہر ہوگی۔جس دن اللہ تعالیٰ اپنے غضب اور انعام کے ساتھ جلوہ گر ہوگا۔اور ان کو اپنی طرف سے ذلت دے کر یا عزت دے کر ظاہر کر دے گا۔اور اس حد تک اپنے آپ کو ظاہر کر دے گا کہ اس طرح کبھی اپنے وجود کو ظاہر نہیں کیا ہوگا۔اور ( خدا کی راہ میں ) سبقت لے جانے والے یوں دکھائی دیں گے جیسے میدان میں آگے بڑھا ہوا گھوڑا اور 72