نُورِ ہدایت — Page 773
رنگ میں تشویہ کر دیا کہ ان کا ملک تباہ کر دیا۔ان کی عمارتیں گرگئیں۔قوم بلاک ہوگئی اور اتنا بڑا زلزلہ آیا کہ ان کا نشان تک باقی نہ رہا۔عقب میں تھا کی ضمیر تقدمة کی طرف جاتی ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب دَمُدَمَة نازل کرنے کا وقت آتا ہے اور کوئی قوم گلی بلاکت کی مستحق ہو جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ یہ نہیں دیکھتا کہ ان کے متعلقین کا کیا حال ہوگا یا یہ کہ اس سزا کا نتیجہ کیسا خطرناک نکلے گا۔بعض دفعه ساری قوم بلاک نہیں ہوتی بلکہ اس کا کچھ حصہ بچ رہتا ہے جو دنیا میں انتہا طور پر ذلیل ہو جاتا ہے۔مگر فرماتا ہے جب ہماری طرف سے کسی قوم کو تباہ کرنے کا فیصلہ ہو جاتا ہے تو پھر ہم اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ اس قوم کے بقیہ افراد کیا کیا تکالیف اٹھائیں گے۔جب قوم کی اکثریت خدا تعالیٰ کے غضب کی مستحق ہو جاتی ہے اور خاموش رہنے والے گو مقابلہ نہیں کرتے مگر نبی کی تائید بھی نہیں کرتے تو وہ بھی اکثریت کے ساتھ ہی تباہ و برباد کر دئیے جاتے ہیں۔اس سے یہ مراد نہیں کہ اللہ تعالی ظلم کرتا ہے یا اندھا دھند عذاب نازل کر دیتا ہے بلکہ جس قوم کے استیصال کا وہ فیصلہ کرتا ہے انصاف کے ماتحت کرتا ہے اور جب کہ وہ خود اپنے انجام کو نہیں دیکھتی تو اللہ تعالیٰ اس کے انجام کو کیوں دیکھے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر) 773