نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 772 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 772

اللهِ وَسُقيها کہ یہ طریق درست نہیں تم میری اس ناقہ کو آزاد پھر نے دو اور اس کے پانی میں روک نہ بنو۔یعنی تم مختلف ذرائع سے میری تبلیغ میں روک بن رہے ہو اپنے اس طریق کو چھوڑو اور مجھے آزاد پھر نے دو تا کہ میں خدا تعالیٰ کا پیغام سب لوگوں تک پہنچا تار ہوں۔۔۔۔جب حضرت صالح نے ان سے کہا کہ میری اس ناقہ کو چھوڑ دو تو ان کا یہ مطلب نہیں تھا کہ میرے ساتھ تو جیسا چاہوسلوک کرو مگر اس ناقہ کو کچھ نہ کہو بلکہ ان کا مطلب یہ تھا کہ تم میری تبلیغ میں روک مت بنو۔اگر تم اسی طرح میری اونٹنی کو پانی پینے سے روکتے رہے تو میری تبلیغ رک جائے گی اور علاقوں کے علاقے ہدایت پانے سے محروم رہ جائیں گے۔فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا حضرت صالح کے سمجھانے کے باوجود ثمود نے ان کی بات کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔انہوں نے اسے جھٹلایا اور ناقہ کی کونچیں کاٹ دیں یعنی اپنے ارادوں کا انہوں نے علی الاعلان اظہار کردیا اور کہہ دیا کہ تم خواہ کچھ کہو ہم تمہیں تبلیغ نہیں کرنے دیں گے۔فَدَمُدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوهَا وَلَا يَخَافُ عُقْبَهَا فرماتا ہے چونکہ انہوں نے ہمارے رسول کی بات نہ مانی اس لئے ہم نے ان پر عذاب نازل کیا اور عذاب بھی ایسا سخت که فَسَوهَا خدا نے انہیں زمین کے ساتھ ملا دیا اور ان کے چھوٹوں اور بڑوں کو اس طرح تباہ کیا کہ ان کا نشان تک دنیا میں نہ رہا۔قرآن کریم اپنے کلام میں کیسی بلاغت کی شان رکھتا ہے کہ پہلے فرمایا تھا وَ نَفْسٍ وَمَا سوما ہم نے انسان کو معتدل القویٰ بنایا ہے اور خود انسانی نفس اس امر پر شاہد ہے کہ اسے کوئی نور آسمان سے ملنا چاہئے۔اب فرماتا ہے چونکہ انہوں نے اس تشویہ کی قدر نہ کی اور ہمارے احکام کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اس لئے ہم نے ان کا دوسری طرح تشویہ کر دیا کہ ان کا نشان تک دنیا سے مٹا دیا۔یہ بلاغت کا کمال ہے کہ جس چیز کا انہوں نے انکار کیا تھا عذاب کے معنوں میں بھی وہی لفظ لے آیا۔انہوں نے تسویہ نفس سے انکار کیا تھا اللہ تعالیٰ نے وہی لفظ اس جگہ استعمال کر دیا اور فرمایا کہ چونکہ انہوں نے تشویہ سے انکار کیا تھا، ہم نے ان کا اس 772