نُورِ ہدایت — Page 749
قسموں کے ان کا ذکر کیا۔بعد اس کے انسان کامل کے نفس کا ذکر فرمایا تا معلوم ہو کہ انسان کامل کا نفس ان تمام کمالات متفرقہ کا جامع ہے جو پہلی چیزوں میں جن کی قسمیں کھائی گئیں الگ الگ طور پر پائی جاتی ہیں۔اور اگر یہ کہا جائے کہ خدائے تعالیٰ نے ان اپنی مخلوق چیزوں کی جو اس کے وجود کے مقابل پر بے بنیاد و بیچ میں کیوں قسمیں کھائیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ تمام قرآن شریف میں یہ ایک عام عادت وسنت الہی ہے کہ وہ بعض نظری امور کے اثبات و احقاق کے لئے ایسے امور کا حوالہ دیتا ہے جو اپنے خواص کا عام طور پر بین اور کھلا کھلا نظر اور بدیہی ثبوت رکھتے ہیں۔جیسا کہ اس میں کسی کو بھی شک نہیں ہو سکتا کہ سورج موجود ہے اور اس کی دھوپ بھی ہے اور چاند موجود ہے اور وہ نور آفتاب سے حاصل کرتا ہے اور روزِ روشن بھی سب کو نظر آتا ہے اور رات بھی سب کو دکھائی دیتی ہے اور آسمان کا پول بھی سب کی نظر کے سامنے ہے اور زمین تو خود انسانوں کی سکونت کی جگہ ہے۔اب چونکہ یہ تمام چیزیں اپنا اپنا کھلا کھلا وجود اور کھلے کھلے خواص رکھتی ہیں جن میں کسی کو کلام نہیں ہو سکتا اور نفس انسان کا ایسی چھپی ہوئی اور نظری چیز ہے کہ خود اس کے وجود میں ہی صد با جھگڑے برپا ہو رہے ہیں۔بہت سے فرقے ایسے ہیں کہ وہ اس بات کو مانتے ہی نہیں کہ نفس یعنی روح انسان بھی کوئی مستقل اور قائم بالذات چیز ہے جو بدن کی مفارقت کے بعد ہمیشہ کے لئے قائم رہ سکتی ہے۔اور جو بعض لوگ نفس کے وجود اور اس کی بقا اور ثبات کے قائل ہیں وہ بھی اُس کی باطنی استعدادات کا وہ قدر نہیں کرتے جو کرنا چاہئے تھا۔بلکہ بعض تو اتنا ہی سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم صرف اسی غرض کے لئے دنیا میں آتے ہیں کہ حیوانات کی طرح کھانے پینے اور حظوظ نفسانی میں عمر بسر کریں۔وہ اس بات کو جانتے بھی نہیں کہ نفس انسانی کس قدر اعلیٰ درجہ کی طاقتیں اور قوتیں اپنے اندر رکھتا ہے اور اگر وہ کسب کمالات کی طرف متوجہ ہو تو کیسے تھوڑے ہی عرصہ میں تمام عالم کے متفرق کمالات و فضائل و انواع پر ایک دائرہ کی طرح محیط ہو سکتا ہے۔749