نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 734 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 734

بچھائی جائیں، شاندار دروازے بنائے جائیں، رنگ برنگ کی جھنڈیاں لگائی جائیں اور ظاہری لحاظ سے نمائش کی جائے حالانکہ اصل استقبال قالین بچھانا نہیں بلکہ آنکھوں کا فرش راہ کرنا ہے۔ایک شاعر نے کہا ہے۔ع حضرت واعظ جو آئیں دیدہ و دل فرش راہ پس لوگوں کے دیدہ و دل کا فرش راہ ہونا ہی اصل عزت کی علامت ہے اور اسی کی طرف زرَابِيُّ مَبْعُوثَةٌ میں اشارہ کیا گیا ہے اس سے مراد ظاہری ذرا بچ نہیں۔ان ظاہری زرائی کی تو صحابہ کو پرواہ بھی نہیں تھی۔غرض بتایا کہ مسلمان جہاں جائیں گے لوگ اپنی آنکھیں فرش راہ کریں گے اور کہیں گے آئیے اور تشریف رکھئے۔آخر وہ کون سی چیز تھی جس کی وجہ سے اسلام کو فتح حاصل ہوئی اور مسلمان جہاں گئے پھیلتے چلے گئے۔اس کی وجہ یہی تھی کہ مسلمان منصف مزاج تھے اور وہ لوگوں کے حقوق کو غصب نہیں کرتے تھے۔غصہ سے انسان تب لڑتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ میرا نقصان ہو رہا ہے لیکن جب وہ سمجھتا ہو کہ ہمارے اپنے بادشاہ ظلم کرتے ہیں مسلمان آئے تو انصاف کریں گے اُس وقت وہ دل سے نہیں لڑسکتا بلکہ عزت کے ساتھ پیش آتا ہے۔پس فرماتا ہے کہ مسلمانوں کی حالت یہ ہوگی کہ وہ جدھر جائیں گے لوگ اپنی آنکھیں اُن کی راہ میں بچھائیں گے۔جس جگہ ٹھہریں گے لوگ تکیے لگائیں گے۔اُن کے قدموں میں قالینیں بچھائیں گے جیسے گورنروں یا حاکموں کے استقبال کے موقع پر ہوتا ہے اور کہیں گے کہ ہمارے ہاں ہی ٹھہرئیے اور آگے نہ جائیے۔أَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ ابل کے معنے اونٹوں کے ہوتے ہیں لیکن بعض علماء ادب نے اس کے معنے بادل کے بھی کئے ہیں۔امام راغب نے اپنی کتاب مفردات میں لکھا ہے کہ اس کے معنے اگر بادل کے ہیں تو بھی استعارہ کے طور پر ہیں۔لغت میں یہ معنے نہیں ہیں۔گو بعض آئمہ نے حتٰی کہ 734