نُورِ ہدایت — Page 718
پانی پئیں گے اور وہ آگ معلوم ہو گا خواہ ٹھنڈا پانی پیئیں لیکن وہ اُن کے گلے میں پھنسے گا اور انہیں جلائے گا جیسے غم اور مصیبت میں لوگ پانی پیتے ہیں تو وہ اُن کے گلے میں پھنستا ہے۔دودھ دے دو۔عمدہ سے عمدہ کھانا دے دو۔اچھی سے اچھی غذائیں کھلاتے جاؤ اُن کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ غم سے انسان اور زیادہ دُبلا ہوتا جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مخالفین اسلام پر اس قدر مصائب و مشکلات آئیں گی۔اس قدر ان کی عزتوں پر حملے ہوں گے۔سیاسی حملے ہوں گے۔خاندانی حملے ہوں گے کہ اُن کو تلخی کے گھونٹ پینے پڑیں گے اور لخت جگر کھانے کو ملیں گے۔ٹھنڈا پانی پیئیں گے لیکن وہ ان کے منہ میں آبلے ڈال دے گا۔عمدہ سے عمدہ کھانے کھائیں گے لیکن وہ انہیں اتنا نفع نہیں دیں گے جتنا خشک پتے یا شبرق گھاس اونٹ کو نفع دیتے ہیں۔وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاعِمَةٌ ناعمة نعم سے اسم فاعل مؤنث کا صیغہ ہے اور نَعَمَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں رَفِهَ۔وہ خوشحال اور آسودہ حال ہو گیا۔اور جب نعم عیشہ کہیں تو معنے ہوتے ہیں طَابَ وَلَانَ وَاتَّسع۔یعنی اس کی زندگی عمدہ ہو گئی اور کسی تکلیف کا سامنا اُسے نہ کرنا پڑا۔اور ہر چیز اُسے با فراغت ملنے لگی (اقرب) بحر محیط کے مصنف نے ناعمہ کے معنے بحسن ونضارت والے کے کئے ہیں اور پھر لکھا ہے کہ ناعمة کے معنے مُتَنَغِبَة کے بھی ہوتے ہیں۔یعنی یہ معنے بھی ہیں کہ اُن میں حسن اور نضارت اور تا زگی پائی جائے گی اور ان کے چہرے خوبصورت ہوں گے اور یہ بھی معنے ہیں کہ انہیں بڑی بڑی نعمتیں حاصل ہوں گی ( محیط) پہلی آیت میں وجوہ کا ذکر تھا جن کی صفت یہ تھی کہ وہ عَامِلة اور ناصبة تھے۔یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں یا آنے والے ماموروں کے مقابلہ میں خوب عمل کرنے والے اور تھکا دینے والی محنت کرنے والے تھے انفرادی رنگ میں بھی اور اجتماعی رنگ میں بھی۔مگر اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ باوجود ان کے انفرادی اور اجتماعی مقابلوں کے یہ 718