نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 712 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 712

حصّہ میں مخالفت کے انجام کی طرف اشارہ کر دیا کہ اہالیانِ مکہ مخالفت میں پوری محنت صرف کریں گے مگر اس کے نتیجہ میں اُن کو کوئی خوشی نہیں پہنچے گی۔محنت کریں گے لیکن نتیجہ تھکان ہی کان نکلے گا۔آرام و راحت میٹر نہیں آئے گی۔تَصْلى نَارًا حَامِيَةٌ لا حامية : حمی سے ہے اور حَمِیتِ النَّارُ کے معنے ہوتے ہیں اشْتَدَّ حَرُهَا آگ نہایت تیزی کے ساتھ بھڑک اٹھی (اقرب ) پس حَامِيَةٌ کے معنے ہوں گے شدت سے بھڑ کنے والی۔اور تضلی نَارًا حَامِيَةٌ کے معنے ہوں گے کہ مخالف جماعتیں بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گی۔ساری آگیں ایک قسم کی نہیں ہوتیں۔بعض آگیں زیادہ گرم ہوتی ہیں اور بعض کم گرم۔یہاں تک کہ بعض آگیں ایسی ہوتی ہیں کہ لوگ ننگے پاؤں صرف پاؤں کو کیچڑ لگا کر اُن کے اُوپر سے گزر جاتے ہیں اور انہیں کوئلوں کی گرمی محسوس نہیں ہوتی۔مگر فرماتا ہے کہ وہ آگ جس میں مخالفین داخل ہوں گے وہ تارا حَامِيَةً ہوگی۔یعنی ایسی آگ جو اپنی تیزی اور اپنی گرمی میں انتہا پر پہنچ چکی ہوگی۔فرماتا ہے یہ مخالفت چاہے انفرادی ہو یا قومی ،مخالفین کی تباہی کا موجب ہوگی اور بجائے اس کے کہ مخالف لوگ امن و آرام پائیں یا انہیں عزت اور کامیابی حاصل ہو یہ اس آگ میں داخل ہوں گے جو سخت گرم ہوگی اور بھڑکنے میں تیز ہوگی۔یعنی مسلمان ترقی کرجائیں گے اور مخالفین اپنے منصوبوں میں ناکام و نا مرا در ہیں گے اور آگ میں جلیں گے۔تشفى مِن عَيْنٍ آنِيَةٍ عین کے عربی زبان میں بہت سے معنے ہیں۔ان معنوں میں سے ایک چشمہ کے ہیں اور دوسرے معنے بادل کے ہیں (اقرب ) اس آیت میں چونکہ تشفی کا لفظ استعمال ہوا ہے اس لئے عین سے مراد چشمہ یا با دل ہی ہوسکتا ہے۔دانية : أتى (يَأْني آنْيَا وَإِني وَآنَاءَ) سے ہے اور آئی کے معنے ہوتے ہیں دَی وَقَرُبَ 712