نُورِ ہدایت — Page 59
لوگ جو اللہ تعالیٰ سے عہد باندھتے وقت اپنی نیت کو خالص کر لیتے ہیں اور اس سے عہد بیعت باندھتے ہیں اور اپنے نفوس کو ہر قسم کے بغض اور کینہ سے پاک کرتے ہیں ان پر اس سورۃ کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور وہ فوراً صاحب بصیرت بن جاتے ہیں۔اور اس کے ساتھ ہی الحمد اللہ میں ایک یہ اشارہ بھی ہے کہ جو معرفت باری تعالیٰ کے معاملہ میں اپنے بد اعمال سے بلاک ہوا یا اس کے سوا کسی اور کو معبود بنالیا تو سمجھو کہ وہ شخص خدا تعالیٰ کے کمالات کی طرف سے اپنی توجہ پھیر لینے ، اس کے عجائبات کا نظارہ نہ کرنے اور جو امور اس کی شایانِ شان ہیں ان سے باطل پرستوں کی طرح غفلت برتنے کے نتیجہ میں بلاک ہو گیا۔کیا تو نصاری کو نہیں دیکھتا کہ انہیں توحید کی دعوت دی گئی تو انہیں اسی بیماری نے بلاک کیا اور ان کے گمراہ کرنے والے نفس اور پھسلا دینے والی خواہشات نے ان کے لئے ( یہ گمراہ کن ) خیال خوبصورت کر کے دکھا دیا اور انہوں نے ایک ( عاجز ) بندے کو خدا بنالیا اور گمراہی اور جہالت کی شراب پی لی۔اللہ تعالیٰ کے کمال اور اس کی صفات ذاتیہ کو بھول گئے اور اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں تراش لیں اگر وہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے شایان شان کمالات پر گہری نظر ڈالتے تو ان کی عقل خطا نہ کرتی اور وہ بلاک ہونے والوں میں سے نہ ہو جاتے۔پس یہاں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اللہ جل شانہ کی معرفت کے بارہ میں غلطی سے بچانے والا قانون یہ ہے کہ اس کے کمالات میں پورا غور کیا جائے اور اس کی ذات کے لائق صفات کی جستجو کی جائے اور ان صفات کا ورد کیا جائے جو ہر مادی عطیہ سے بہتر اور ہر مدد سے مناسب تر ہیں اور اس نے اپنے کاموں سے جو صفات ثابت کی ہیں یعنی اس کی قوت اس کی طاقت اس کا غلبہ اور اس کی سخاوت کا تصور کیا جائے۔پس اس بات کو یا درکھو اور لا پر وامت بنو۔اور جان لو کہ ربوبیت ساری کی ساری اللہ کے لئے ہے۔اور رحمانیت ساری کی ساری اللہ کے لئے ہے۔اور رحیمیت ساری کی ساری اللہ کے لئے ہے اور جزا سزا کے دن کامل حکومت اللہ کے لئے ہے۔پس اے مخاطب اپنے پرورش کنندہ کی اطاعت سے انکار نہ کر اور موحد 59