نُورِ ہدایت — Page 659
پس میری سمجھ میں یہ وقت ہے کہ جہاں تک تم میں کسی سے ہو سکے اللہ کے اسماء ، صفات، افعال، اللہ کی کتاب اللہ کے رسول اللہ کے رسول کے نواب و خلفاء کی پاکیزگی بیان کرے۔اور ان پر جو اعتراض ہوتے ہیں انہیں بقدر اپنی طاقت کے سلامت روی وامن پسندی کے ساتھ دُور کرنے کی کوشش کریں۔یہ مت گمان کرو کہ ہم ادنی ہیں۔وہ طاقت رکھتا ہے کہ تمہیں ادنیٰ سے اعلیٰ بنادے۔چنانچہ وہ فرماتا ہے خَلَقَ فَسَوَى وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى (الا على 3-4) جوان پڑھ میں انہیں کم از کم یہی چاہئے کہ وہ اپنے چال و چلن سے خدا کی تنزیہ کریں۔یعنی اپنے طرز عمل سے دکھائیں کہ قدوس خدا کے بندے، پاک کتاب کے ماننے والے، پاک رسول کے متبع اور اس کے خلفاء اور پھر خصوصا اس عظیم الشان مجدد کے پیر وایسے پاک ہوتے ہیں۔( بدر 13 را کتوبر 1910 صفحہ 9،8) ہر شخص پر جو قرآن پر ایمان لایا۔جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مانا۔جو اللہ پر ایمان لایا۔اس کی کتابوں پر ایمان لایا۔فرض ہے کہ وہ کوشش کرے کہ خدا تعالیٰ کے کسی نام پر کوئی اعتراض نہ کرنے پائے۔اگر کرے تو اس کا ذب کرے۔اس لئے ارشاد ہوتا ہے۔ستخ۔جناب الہی کی تنزیہ کر۔اس کی خوبیاں ، اس کے محامد بیان کر۔میں نے بعض نادانوں کو دیکھا ہے۔جب جناب الہی ، اپنی کامل حکمت و کمالیت سے اس کے قصور کے بدلے سزا دیتے ہیں اور وہ سزا اسی کی شامت اعمال سے ہی ہوتی ہے۔جیسے فرما يا وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُم (الشوری 31) تو وہ شکایت کرنے لگ جاتے ہیں۔مثلاً کسی کا کوئی پیارے سے پیارا مر جائے تو اس ارحم الراحمین کو ظالم کہتے ہیں۔بارش کم ہو تو زمیندار سخت لفظ بک دیتے ہیں۔اور اگر بارش زیادہ ہو تو تب بھی خدا تعالیٰ کی حکمتوں کو نہ سمجھتے ہوئے بُرا بھلا کہتے ہیں۔اس لئے ہر آدمی پر حکم ہے کہ اللہ تعالی کی تنزیہ و تقدیس وسیع کرے۔آپ کے کسی اسم پر کوئی حملہ کرے تو اس حملہ کا دفاع کرے۔اب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں کوئی بُرا کہے یا تمہارے ماں باپ یا بھائی بہن یا محبوب 659