نُورِ ہدایت — Page 657
حجام کا پیشہ کیسا ادنی سمجھا جاتا۔یہی لوگ مرہم پٹی کرتے اور ہڈیاں بھی درست کر دیتے۔اسی پیشے کو علم کے ذریعے ترقی دیتے دیتے سر جنی تک نوبت پہنچ گئی ہے۔اور سرجن بڑی عزت سے دیکھا جاتا ہے۔میں نے تاجروں پر وہ وقت بھی دیکھا ہے کہ سر پر بوجھ اٹھائے وہ در بدر پھر رہے ہیں۔رات کسی مسجد میں کاٹتے ہیں مگر اب تو تجارت والوں کے علیحدہ جہاز چلتے ہیں۔وہ حکومت بھی دیکھی ہے کہ دس روپے لینے ہیں اور ایک زمیندار سے دھینگا مشتی ہورہی ہے یا اب منی آرڈر کے ذریعہ مالیہ ادا کرتے ہیں۔سنسان ویران جنگلوں کو آباد کر دیا گیا ہے۔یہ بھی علم ہی کی برکت ہے کہ اس سے ادنی چیز اعلیٰ ہو جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس جسم کے علاوہ کچھ اور بھی عطا کیا ہے۔یہ آنکھیں نہیں دیکھتیں جب تک اندر آ نکھ نہ ہو۔زبان نہیں بولتی جب تک اندر زبان نہ ہو۔کان نہیں سنتے جب تک اندر کان نہ ہوں۔مگر یہ تو کافر کو بھی حاصل ہے۔اس کے علاوہ ایک اور آنکھ وزبان وکان بھی ہے جو مومن کو دئیے جاتے ہیں۔یہ وہ آنکھ ہے جس سے انسان حق و باطل میں تمیز کر سکتا ہے۔حق و باطل کا شنوا ہوسکتا ہے۔حق و باطل کا اظہار کر سکتا ہے۔اگر انسان حق کا گویا وشنو و بینا نہ ہو تو م بكم غمی کا فتویٰ لگتا ہے۔اللہ جلشانہ جس کو آنکھ دیتا ہے وہ ایسی آنکھ ہوتی ہے کہ اس سے خدا کی رضا کی راہوں کو دیکھ لیتا ہے۔پھر ایک آنکھ اس سے بھی تیز ہے جس سے مومن اللہ کی راہ پر علی وجہ البصیرت چلتے ہیں۔پھر اس سے بھی زیادہ تیز آنکھ جو اولوالعزم رسولوں کو دی جاتی ہے۔ان حواس کے متعلق اللہ اپنے پاک کلام میں وعظ کرتا ہے۔دیکھو آج (جمعہ کا دن ) لوگوں نے کچھ نہ کچھ اہتمام ضرور کیا ہے۔غسل کیا ہے۔لباس حتی المقدور عمدہ ونیا پہنا ہے۔خوشبولگائی ہے۔پگڑی سنوار کر باندھی ہے۔یہ سب کچھ کیوں کیا۔صرف اس لئے ہم باہر بے عیب ہو کر نکلیں۔بہت سے گھر ایسے ہوں گے جہاں بیوی بچوں میں اسی لئے جھگڑا بھی پڑا ہوگا۔اور اس جھگڑے کی اصل بناء یہی ہے کہ بے عیب بن کر باہر نکلیں۔657