نُورِ ہدایت — Page 632
پس ہمیں اس سوچ کے ساتھ اپنے دلوں کو ٹو لتے رہنا چاہئے اور ہر کام کے انجام پر نظر رکھنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی میرے ہر کام پر نظر ہے۔یہ سوچ جب پیدا ہو جائے تو مومن ایک حقیقی مومن بن جاتا ہے یا بننے کی طرف قدم بڑھا رہا ہوتا ہے۔اس معیار کو دیکھنے کے لئے کسی جماعتی یا ذیلی تنظیم کے رپورٹ فارم کو دیکھنے اور اس پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ہر ایک شخص خود اپنے جائزے لے سکتا ہے کہ کیا یہ اس کے معیار ہیں کہ ہر کام کرنے سے پہلے اسے یہ خیال آئے کہ خدا تعالیٰ میرے اس کام کو دیکھ رہا ہے۔اگر میں نیک نیتی سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے یہ کام کر رہا ہوں تو اللہ تعالیٰ کا کئی گنا جزا کا بھی وعدہ ہے، اجر کا بھی وعدہ ہے۔اور اگر نیت بد ہے تو پھر انسان کو یہ سوچنا چاہئے کہ میں اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں بھی آ سکتا ہوں۔جب ہم میں سے ہر ایک ایسی سوچ کے ساتھ اپنے فرائض اور ذمہ داریاں ادا کرے گا اور اس کے لئے کوشش کرے گا تو جماعت کے جو تقویٰ کے عمومی معیار ہیں وہ بھی بلند ہوں گے اور یہ تقویٰ کا معیار بلند ہوتا ہوا جماعتی طور پر بھی خود بخود نظر آنا شروع ہو جائے گا۔نہ تربیت کے شعبے کے لئے مشکلات اور مسائل ہوں گے، نہ امور عامہ اور قضاء کے شعبے کے لئے مسائل، نہ ہی دوسرے شعبوں کو یاد دہانیوں کی ضرورت اور فکر پڑے گی۔پس اپنے دلوں کو ہر وقت صبح شام ٹولتے رہنا چاہئے اور شیطان کے حملوں سے نفس کو بچانے کی انتہائی کوشش کی ضرورت ہے۔اگر نہیں خیال آتے تو یہ شیطان کی وجہ سے ہی نہیں آتے۔اس بات کو بھلانے میں شیطان ہی کردار ادا کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کو بھلایا جائے تو شیطان ہی ہے جو کردار ادا کرتا ہے۔کل کی اگر فکر نہ ہوتو وہ شیطان ہی ہے جو بھلاتا ہے۔یہ شیطان ہی ہے جو یہ کہتا ہے اس بات کو بھول جاؤ کہ خدا تعالیٰ تمہیں دیکھ رہا ہے۔اگر ہم جائزہ لیں کہ اکثر اس بات کو نہیں سوچتے کہ میرے کام کو خدا تعالیٰ دیکھ رہا ہے اور اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے اور یہ سب اس لئے ہوتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے خون کے ساتھ اس کے جسم میں چلتا ہے۔(صحیح البخاری کتاب الاعتكاف باب زيارة المرأة زوجہانی اعتکافہ حدیث نمبر 2038) 632