نُورِ ہدایت — Page 622
سلوک بھی ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح انتہائی نامساعد حالات میں بھی جماعت کو اللہ تعالیٰ دشمن کے منہ سے نکال لاتا ہے۔جماعت کی ایک اچھی تعداد یقیناً تقویٰ پر چلنے والوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والوں کی بھی ہے۔لیکن ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عہد بیعت باندھ کر ہم میں سے ہر ایک وہ معیار تقویٰ حاصل کرے، وہ خدا تعالیٰ کا قرب ہمیں حاصل ہو جو ایک حقیقی مسلمان کا ہونا چاہئے اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے چاہتے ہیں۔اور وہ کیا ہے؟ وہ یہی ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کو ہمیشہ یادرکھیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم نے اللہ تعالیٰ کو بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ کا تو کچھ حرج نہیں کرو گے۔اللہ کا تو اس میں کوئی نقصان نہیں ہے، ہاں یہ غفلت خود تمہیں نقصان پہنچانے والی ہو یہ گی۔خدا تعالیٰ کو بھلانے والے وہ لوگ ہیں جو ایمان میں کمزور ہیں، کامل ایمان نہیں رکھتے ، یا بھول جاتے ہیں کہ ہم نے ایک دن اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے اور اس وجہ سے پھر ایسے عمل ہونے لگتے ہیں جن سے اُن کی اخلاقی اور روحانی حالت انحطاط پذیر ہو جاتی ہے، گرنے لگ جاتی ہے، دنیا دین پر مقدم ہو جاتی ہے، نہ یہ کہ دین دنیا پر مقدم ہو۔ایسے دنیا دار اگلے جہان میں خدا تعالیٰ کا کیا سلوک دیکھیں گے وہ تو خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔لیکن اس دنیا میں بھی اُن کے دنیا میں پڑنے کی وجہ سے اُن کا ذہنی سکون برباد ہو جاتا ہے۔کئی لوگ ہم دیکھتے ہیں ذرا سے مالی نقصان پر دنیا وی نقصان پر ایسے روگ لگاتے ہیں کہ پھر کسی قابل نہیں رہتے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمان کا دعویٰ ہے اور تقویٰ پر قدم مارنے کی کوشش نہیں ہے۔ایمان کے دعوے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اُس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ نہیں ہے۔تو یہ بات صاف ظاہر کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کامل نہیں ہے۔جب ایمان میں کمزوری ہے اور اصلاح کی طرف توجہ نہیں ہے تو پھر دنیا میں بے سکونی کی زندگی ہوگی۔اور یہی نہیں، ایسا شخص پھر فاسقوں میں شمار ہوگا۔فاسق کے یہاں یہ معنی ہوں گے که احکام شریعت کو اپنے اوپر لاگو کرنے کا عہد کر کے پھر بعض یا تمام احکام کی خلاف ورزی 622