نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 609 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 609

حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ۔وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ مَا تَعْمَلُونَ۔اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر نفس کو چاہئے کہ دیکھتا رہے کہ کل کے لئے اس نے کیا کیا اور تقویٰ اپنا شعار بنائے۔اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے خوب آگاہ ہے۔غرض دنیا و عقبی میں کامیابی کا ایک گر بتایا کہ انسان کل کی فکر آج کرے اور اپنے ہر قول و فعل میں یہ یادر کھے کہ خدا تعالیٰ میرے کاموں سے خبردار ہے۔یہی تقویٰ کی جڑھ ہے۔اور یہی ہر ایک کامیابی کی رُوح رواں ہے۔برخلاف اس کے انجیل کی یہ تعلیم ہے جو ( متی ) باب 6 آیت 33 میں مذکور ہے بایں الفاظ کہ کل کے لئے فکر نہ کروکیونکہ کل کا دن اپنے لئے آپ فکر کرے گا۔آج کا دُکھ آج کے لئے کافی ہے۔اگر ان دونوں تعلیموں پر غور کریں تو صرف اسی ایک مسئلہ سے اسلام و عیسائیت کی صداقت کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔اور ایک نیک دل پارسا طالب نجات، طالب حق خوب سمجھ لیتا ہے کہ عملی زندگی کے اعتبار سے کون سا مذہب احق بالقبول ہے۔اگر انجیل کی اس آیت پر ہم کیا، خود انجیل کے ماننے والے عیسائی بھی عمل کریں تو دنیا کی تمام ترقیاں رُک جائیں اور تمام کاروبار بند ہو جائیں۔نہ تو بجٹ بنیں۔نہ ان کے مطابق عمل درآمد ہو۔نہ ریل گاڑیوں اور جہازوں کے پروگرام پہلے شائع ہوں۔نہ کسی تجارتی کارخانے کو اشتہار دینے کا موقعہ ملے۔نہ کسی گھر میں کھانے کی کوئی چیز پائی جائے۔اور نہ غالباً بازاروں سے مل سکے۔کیونکہ کل کی تو فکر ہی نہیں۔بلکہ فکر کرنا ہی گناہ ہے۔برخلاف اس کے قرآن مجید کی تعلیم کیا پاک اور عملی زندگی میں کام آنے والی ہے۔اور لطف یہ ہے کہ عیسائیوں کا اپنا عمل درآمد بھی اسی آیت پر ہے۔ورنہ آج ہی سے سب کا روبار عالم بند ہوجائیں۔اور کوئی نظام سلطنت قائم نہ رہے۔قرآن پاک کی تعلیم وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ پر عمل کرنے 609