نُورِ ہدایت — Page 554
اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا کہ نَحْنُ اَولِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ کہ ہم اس دنیا میں بھی اور آئندہ بھی متقی کے ولی ہیں۔سو یہ آیت بھی تکذیب میں ان نادانوں کی ہے جنہوں نے اس زندگی میں نزول ملائکہ سے انکار کیا۔اگر نزع میں نزولِ ملائکہ تھا تو حیات الڈ نیا میں خدا تعالیٰ کیسے ولی ہوا۔رپورٹ جلسہ سالانہ 1897 ، صفحہ 38،37) وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر انہوں نے استقامت اختیار کی یعنی اپنی بات سے نہ پھرے اور طرح طرح کے زلازل ان پر آئے مگر انہوں نے ثابت قدمی کو ہاتھ سے نہ دیا۔ان پر فرشتے اترتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ تم کچھ خوف نہ کرو اور نہ کچھ حزن اور اس بہشت سے خوش ہو جس کا تم وعدہ دیئے گئے تھے یعنی اب وہ بہشت تمہیں مل گیا اور بہشتی زندگی اب شروع ہوگئی۔کس طرح شروع ہوگئی نَحْنُ اولیو كُم الخ اس طرح کہ ہم تمہارے متولی اور متکفل ہو گئے اس دنیا میں اور آخرت میں اور تمہارے لئے اس بہشتی زندگی میں جو کچھ تم مانگو وہی موجود ہے یہ غفور رحیم کی طرف سے مہمانی ہے۔مہمانی کے لفظ سے اس پھل کی طرف اشارہ کیا ہے جو آیت تُؤتي أكلها كُلّ حِينٍ ( ابراھیم 26) میں فرمایا گیا تھا۔جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد 6 صفحه 126) جولوگ اللہ ( جلشانہ) کے دوست ہیں یعنی جو لوگ خدائے تعالیٰ سے سچی محبت رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ ان سے محبت رکھتا ہے تو ان کی یہ نشانیاں ہیں کہ نہ ان پر خوف مستولی ہوتا ہے کہ کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے یا فلاں بلا سے کیوں کر نجات ہوگی کیونکہ وہ تسلی دیئے جاتے ہیں۔اور نہ گزشتہ کے متعلق کوئی حزن و اندوہ ہوتا ہے کیونکہ وہ صبر دیئے جاتے ہیں۔دوسری یہ نشانی ہے کہ وہ ایمان رکھتے ہیں یعنی ایمان میں کامل ہوتے ہیں اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔یعنی خلاف ایمان و خلاف فرمانبرداری جو باتیں ہیں اُن سے بہت دُور رہتے ہیں۔تیسری اُن کی یہ نشانی ہے کہ انہیں ( بذریعہ مکالمہ الہیہ ورویائے صالحہ بشارتیں ملتی رہتی ہیں) اس جہان میں بھی اور دوسرے جہان میں بھی خدا تعالیٰ کا ان کی نسبت یہ عہد ہے جوٹل 554