نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 552 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 552

تاریکی نہ ہواور نہ غیر متنی اور چند بے سر و پا لفظ ہوں اور کلام لذیذ اور پر حکمت اور پُر شوکت ہو تو وہ خدا کا کلام ہے جس سے وہ اپنے بندہ کو تسلی دینا چاہتا ہے اور اپنے تئیں اس پر ظاہر کرتا ہے۔ہاں کبھی ایک کلام محض امتحان کے طور پر ہوتا ہے اور پورا اور بابرکت سامان ساتھ نہیں رکھتا۔اس میں خدا تعالیٰ کے بندہ کو اس کی ابتدائی حالت میں آزمایا جاتا ہے تا وہ ایک ذرہ الہام کا مزہ چکھ کر پھر واقعی طور پر اپنا حال و قال سے ملہموں کی طرح بناوے یا ٹھو کر کھاوے۔پس اگر وہ حقیقی راستبازی صدیقوں کی طرح اختیار نہیں کرتا تو اس نعمت کے کمال سے محروم رہ جاتا ہے اور صرف بیہودہ لاف زنی اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔کروڑ ہا نیک بندوں کو الہام ہوتا رہا ہے مگر ان کا مرتبہ خدا کے نزدیک ایک درجہ کا نہیں بلکہ خدا کے پاک نبی جو پہلے درجہ پر کمال صفائی سے خدا کا الہام پانے والے ہیں وہ بھی مرتبہ میں برابر نہیں۔( اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحه 437تا439) حمد جو لوگ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور پھر استقامت اختیار کرتے ہیں فرشتے ان کو بشارت کے الہامات سناتے رہتے ہیں اور ان کو تسلی دیتے رہتے ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں کو بذریعہ الہام تسلی دی گئی۔لیکن قرآن ظاہر کر رہا ہے کہ اس قسم کے الہامات یا خوابیں عام مومنوں کے لئے ایک روحانی نعمت ہے خواہ وہ مرد ہوں یا عورت ہوں۔اور ان الہامات کے پانے سے وہ لوگ امام وقت سے مستغنی نہیں ہو سکتے۔اور اکثریہ الہامات ان کے ذاتیات کے متعلق ہوتے ہیں اور علوم کا افاضہ ان کے ذریعہ سے نہیں ہوتا اور نہ کسی عظیم الشان تحدی کے لائق ہوتے ہیں اور بہت سے بھروسے کے قابل نہیں ہوتے بلکہ بعض وقت ٹھو کر کھانے کا موجب ہو جاتے ہیں۔اور جب تک امام کی دستگیری افاضہ علوم نہ کرے تب تک ہر گز ہر گز خطرات سے امن نہیں ہوتا۔اس امر کی شہادت صدر اسلام میں ہی موجود ہے۔کیونکہ ایک شخص جو قرآن شریف کا کا تب تھااس کو بسا اوقات نور نبوت کے قرب کی وجہ سے قرآنی آیت کا اس وقت میں الہام ہو جا تا تھا جبکہ امام یعنی نبی علیہ السلام وہ آیت لکھوانا چاہتے تھے۔ایک دن اس نے خیال کیا کہ مجھ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 552