نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 551 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 551

اس جگہ یہ مراد نہیں ہے کہ سوچ اور فکر کی کوئی بات دل میں پڑ جائے جیسا کہ جب شاعر شعر کے بنانے میں کوشش کرتا ہے یا ایک مصرع بنا کر دوسرا سو چتا رہتا ہے تو دوسرا مصرع دل میں پڑتا ہے۔سو یہ دل میں پڑ جانا الہام نہیں ہے بلکہ یہ خدا کے قانون قدرت کے موافق اپنی فکر اور سوچ کا ایک نتیجہ ہے۔جو شخص اچھی باتیں سوچتا ہے یا بری باتوں کے لئے فکر کرتا ہے اس کی تلاش کے موافق کوئی بات ضرور اس کے دل میں پڑ جاتی ہے۔ایک شخص مثلاً نیک اور راستباز آدمی ہے جو سچائی کی حمایت میں چند شعر بناتا ہے اور دوسراشخص جو ایک گندہ اور پلید آدمی ہے اپنے شعروں میں جھوٹ کی حمایت کرتا ہے اور راستبازوں کو گالیاں نکالتا ہے تو بلا شبہ یہ دونوں کچھ نہ کچھ شعر بنا لیں گے بلکہ کچھ تعجب نہیں کہ وہ راستبازوں کا دشمن جو جھوٹ کی حمایت کرتا ہے بباعث دائمی مشق کے اس کا شعر عمدہ ہو۔سوا گر صرف دل میں پڑ جانے کا نام الہام ہے تو پھر ایک بدمعاش شاعر جور است بازی اور راست بازوں کا دشمن اور ہمیشہ حق کی مخالفت کے لئے قلم اٹھاتا اور افتراؤں سے کام لیتا ہے خدا کا ملہم کہلائے گا۔دنیا میں ناولوں وغیرہ میں جادو بیانیاں پائی جاتی ہیں اور تم دیکھتے ہو کہ اس طرح سراسر باطل مگر مسلسل مضمون لوگوں کے دلوں میں پڑتے ہیں۔پس کیا ہم ان کو الہام کہہ سکتے ہیں؟ بلکہ اگر الہام صرف دل میں بعض باتیں پڑ جانے کا نام ہے تو ایک چور بھی ملہم کہلا سکتا ہے کیونکہ وہ بسا اوقات فکر کر کے اچھے اچھے طریق نقب زنی کے نکال لیتا ہے اور عمدہ عمدہ تدبیریں ڈاکہ مارنے اور خون ناحق کرنے کی اس کے دل میں گزر جاتی ہیں تو کیا لائق ہے کہ ہم ان تمام نا پاک طریقوں کا نام الہام رکھ دیں؟ ہر گز نہیں۔بلکہ یہ ان لوگوں کا خیال ہے جن کو اب تک اس سچے خدا کی خبر نہیں جو آپ خاص مکالمہ سے دلوں کو تسلی دیتا اور نا واقفوں کو روحانی علوم سے معرفت بخشتا ہے۔الہام کیا چیز ہے؟ وہ پاک اور قادر خدا کا ایک برگزیدہ بندہ کے ساتھ یا اس کے ساتھ جس کو برگزیدہ کرنا چاہتا ہے ایک زندہ اور باقدرت کلام کے ساتھ مکالمہ اور مخاطبہ ہے۔سو جب یہ مکالمہ اور مخاطبہ کافی اور تسلی بخش سلسلہ کے ساتھ شروع ہو جائے اور اس میں خیالات فاسدہ کی 551