نُورِ ہدایت — Page 542
مثلكم یہ اسلام کی صداقت کی ایک بڑی دلیل ہے میں نے 1970ء میں اس سے فائدہ اٹھایا اور تقریروں میں اسے بیان کرتا رہا۔ایک جگہ کچھ پادری منہ بنا کے بیٹھے ہوئے تھے اس ملک کالاٹ پادری بھی وہاں تھا تو وہاں پر مجھے خیال آیا کہ ان کو اسلام سے تعارف تو کراؤں چنانچہ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم جو پیرا ماؤنٹ پرافٹ ہیں ( میں نے ان کی زبان کا محاورہ لیا ) ان کی زبان سے خدا نے یہ کہلوا یا قُل إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ کہ بشر ہونے کے لحاظ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور تم افریقن میں کوئی فرق نہیں تو وہ جو آپ کے نائب اور جونئیر قسم کے انبیاء تھے جیسے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام گذرے ہیں انہیں اور ان کے متبعین کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے آپ کو تم سے بڑا سمجھیں۔اس پر وہ پادری یوں اچھلے انہوں نے کہا کہ یہ کیا بم شیل ہمارے اوپر گرا دیا ہے پس نعرے لگانا اور چیز ہے اور حقیقت کو سمجھ کر اپنی زندگی اور معاشرہ کو اس کے مطابق ڈھالنا یہ بالکل اور چیز ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایک حقیقت قرآن کریم نے یہ بیان کی ہے اور قرآن کریم نے ہمارے محبوب آقانبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایک دوسری حقیقت یہ بیان کی کہ قد جَاءَكُمْ مِنَ اللهِ نُورُ ( المائدة (16) اور آپ کو ستراجًا منيرا (الاحزاب (47) کہا یعنی ایک چمکتا ہوا سورج اور کہا کہ آپ مظہر اتم الوہیت ہیں اور جو کامل نور ہے جو کامل طور پر دنیا کو روشن کرنے والا سورج ہے اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ مظہر اتم الوہیت ہو۔اور جو مظہر اتم الوہیت ہے اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے متعلق یہ اعلان ہو کہ لَوْلاكَ لَمَا خَلَقْتُ الأفلاك ( موضوعات کبیر زیر حرف لام )۔یہ دو حقیقتیں ہیں جو ایک ہی وجود میں پائی جاتی ہیں اور نوع انسانی نے ان حقائق مقام محمدیت سے دو مختلف فائدے اٹھائے ہیں قُلْ إِنما انا بشرٌ مِثْلُكُمْ کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں یہ اعلان کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اُسوہ کی شکل میں بنی نوع انسان کے سامنے پیش کیا گیا ہے کیونکہ اگر یہ ہوتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بشر نہیں بلکہ سپر مین (super man) ہیں اور بشر سے کوئی بلند و بالا چیز ہیں تو انسان کہتا کہ 542