نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 525 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 525

عبادت نہیں کرتا۔( البدر جلد 3 نمبر 34 مورخہ 8 ستمبر 1904 صفحہ 65) مومن جب خدا سے محبت کرتا ہے تو الہی نور کا اس پر احاطہ ہو جاتا ہے اگر چہ وہ نور اس کو اپنے اندر چھپالیتا اور اس کی بشریت کو ایک حد تک بھسم کر جاتا ہے جیسے آگ میں پڑا ہوالو ہا ہو جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ عبودیت اور بشریت معدوم نہیں ہو جاتی۔یہی وہ راز ہے جو قل رائما آنا بَشَر مثْلُكُمْ کی عہ میں مرکوز ہے۔بشریت تو ہوتی ہے مگر وہ الوہیت کے رنگ کے نیچے متواری ہو جاتی ہے اور اس کے تمام قومی اور اعضا للہی راہوں میں خدا تعالیٰ کے ارادوں سے پر ہو کر اس کی خواہشوں کی تصویر ہو جاتے ہیں اور یہی وہ امتیاز ہے جو اس کو کروڑ بامخلوق کی روحانی تربیت کا کفیل بنادیتا ہے اور ربوبیت تامہ کا ایک مظہر قرار دیتا ہے اگر ایسا نہ ہو تو کبھی بھی ایک نبی اس قدر مخلوقات کے لئے بادی اور راہبر نہ ہو سکے۔چونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کل دنیا کے انسانوں کی روحانی تربیت کے لئے آئے تھے اس لئے یہ رنگ حضور علیہ الصلوۃ والسلام میں بدرجہ کمال موجود تھا اور یہی وہ مرتبہ ہے جس پر قرآن کریم نے متعدد مقامات پر حضور کی نسبت شہادت دی ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے مقابل اور اسی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کا ذکر فرمایا ہے مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبیاء 108) اور ایسا ہی فرما يا قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف 159)۔رپورٹ جلسہ سالانہ 1897ء صفحہ 143) حیہ کبھی نہ گمان کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح یا دوسرے انبیاء ایک معمولی آدمی تھے۔وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور مقرب تھے۔قرآن شریف نے مصلحت اور موقعہ کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایک لفظ اس قسم کا بیان فرمایا ہے کہ جہاں آپ کے بہت سے انوار و برکات اور فضائل بیان کئے ہیں وہاں بشر مثلكم بھی کہہ دیا ہے۔مگر یہ اس کے ہر گز معنے نہیں ہیں کہ آنحضرت فی الواقع ہی عام آدمیوں جیسے تھے۔اللہ تعالیٰ نے یہ لفظ آپ کی شان میں اس لئے استعمال فرمایا کہ دوسرے انبیاء کی طرح آپ کی پرستش نہ ہو اور آپ کو خدا نہ بنایا 525